عام آدمی پارٹی: بھارت میں نئی سیاست کی علامت؟

اروند کیجریوال
Image caption اروند کیجریوال سابق سرکاری ملازم ہیں

بھارت میں انسدادِ بدعنوانی کے کارکنوں پر مبنی ایک نئی سیاسی جماعت پہلے سے موجود بڑی پارٹیوں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس نئی جماعت نے لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

دہلی: ریاستی انتخابات میں ’عام آدمی‘ کی کامیابی

’عام آدمی‘ نامی جماعت کی قیادت اروند کیجریوال کر رہے ہیں جو سابق سرکاری ملازم ہیں۔

دہلی کے مقامی انتخابات میں حصہ لینے والی یہ جماعت انسدادِ بدعنوانی کی اس مہم کے بعد وجود میں آئی جو دو برس پہلے بھارت میں شروع ہوئی۔

’میں اروند کیجریوال ہوں ۔۔۔ جھاڑو کو ووٹ دیں۔‘ یہ سادہ سا پیغام ہر روز دہلی کے ریڈیو سٹیشن سے نشر کیا جاتا رہا ہے۔

’عام آدمی پارٹی‘ دہلی کے انتخابات میں ایک اہم جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

انتخابات سے قبل ہونے والے جائزوں میں کہا گیا تھا کہ یہ جماعت حکمراں کانگریس پارٹی اور حزب مخالف کی بڑی جماعت بی جے پی کے اندازوں کو غلط ثابت کر سکتی ہے اور ایسا ہی ہوا۔ ان جماعتوں کے لیے آئندہ برس کے عام انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے لیے دہلی کے انتخابات جیتنا بہت اہم تھا۔

اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ ’ہم کانگریس یا بی جے پی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر رہے۔ یہ عام آدمی ہے جو ان کے مقابل آیا ہے۔ ان کا دل ان دونوں جماعتوں سے بھر چکا ہے اور اب آخر کار انہیں ایک دیانتدار جماعت کو منتخب کرنے کا موقع ملا ہے۔‘

اس جماعت کی انتخابی مہم انتہائی کم بجٹ پر چل رہی ہے۔

Image caption یہ جماعت انسدادِ بدعنوانی کی اس مہم کے بعد وجود میں آئی جو دو برس پہلے بھارت میں شروع ہوئی۔

دہلیی کے قرب و جوار کے پسماندہ علاقوں میں ایک کھلی جیپ پر سوار کیجریوال کے ساتھ ٹُک ٹُک اور سکُوٹروں کا قافلہ چلتا تھا۔

پارٹی کے کارکن اپنے رہنما کی تقلید کرتے ہوئے سفید ٹوپیاں پہنتے ہیں جس پر تحریر ہے ’میں ایک عام آدمی ہوں۔‘ کئی افراد پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو اٹھائے پھرتے تھے۔

عام آدمی پارٹی کا صدر دفتر دارالحکومت کے وسط میں ایک پرانی سے عمارت میں واقع ہے۔ یہاں رضا کار چندہ جمع کرنے، جماعت کی مہم کا لائحہ عمل تیار کرنے اور محدود وسائل کے استعمال کا طریقۂ کار طے کرتے۔

یہ لوگ باقاعدہ اور پیشہ ور سیاستدان نہیں ہیں۔

یہ لوگ متوسط طبقے سے تعلق رکھنےوالے وکلا، طلبا، صحافی اور گھریلو خواتین ہیں جو ملک کے سیاستدانوں سے مایوس ہیں۔ انھیں سیاست میں آنے کے لیے دو سال قبل ملک میں انسدادِ بدعنوانی کے لیے چلنے والے مہم سے تحریک ملی تھی۔

بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کی قیادت کیجریوال اور ان کے رہنما انا ہزارے نے کی تھی۔ نہ صرف ملک بھر سے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی ان کے حامی مظاہروں میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

اس جماعت نے شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام افراد کے نام ظاہر کیے ہیں جنھوں نے انھیں چندہ دیا۔

لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بھارت میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلی کی ابتدا ہے۔

لیکن جماعت کے اندر تنازعات کی بھی کمی نہیں۔ انا ہزارے نے بھی خود کو سیاست سے دور ہی رکھا تھا کیونکہ وہ بظاہر جماعتی سیاست میں حصہ لینے کے فیصلے سے ناخوش تھے۔

انتخابات سے پہلے ہی انا ہزارے نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ کیجری وال نہ تو ان کا نام استعمال کریں گے اور نہ ہی ان کی تصویر۔ انھیں جو کچھ بھی کرنا ہے وہ اپنے بل بوتے پر کریں۔

اس کے علاوہ جماعت کی اہلیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے تصورات کو ٹھوس پالیسیوں کی شکل دے پائے گی۔

ایک سیاسی تجزیہ نگار نیرجا چوہدری کا کہنا ہے ان کے لیے کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ایک بڑا امتحان ہو گا۔ ’وہ سیاسی طور پر اناڑی ہیں۔‘

’عام آدمی‘ نے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کےایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔

اسی بارے میں