افغانستان: بندوق سے جوتوں تک کا سفر

Image caption افغانستان میں بنائے جانے والے چپل امریکہ میں بھی مقبول ہیں

افغانستان میں تین مرتبہ تعینات رہنے والے سابق امریکی فوجی میتھیو گریفن پھر سے افغان عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بار کسی جنگی مشن کے ذریعے نہیں بلکہ جوتوں کی فیکٹری لگا کر۔

میتھیو گریفن جو آرمی رینجرز میں کیپٹن تھے، اب واشنگٹن میں ’کامبیٹ فلپ فلاپ‘ کے نام سے جوتوں کے کاروبار کے مالک ہیں۔

چونتیس سالہ گریفن کو یہ خیال اس وقت آیا جب انہوں نے کابل میں جوتوں کی اس کارخانے کا دورہ کیا جہاں فوجیوں کے لیے بوٹ بنائے جاتے ہیں۔

میتھیو گریفن بتاتے ہیں کہ یہ خیال میرے ذہن میں اچانک ہے۔ مجھے احساس ہوا کے چپل افغانستان میں بھی اسی طرح مقبول ہے جس طرح امریکہ میں، دونوں ملکوں میں یہ چیز مشترک ہے۔

’تو میں نے سوچا کیوں نا کابل سے چپلیں بنوا کر انہیں امریکہ سمیت پوری دنیا میں فروخت کرنے کا کاروبار شروع کیا جائے۔‘

میتھیو گریفن کا مزید کہنا تھا:’یہ 2009 کی بات ہے اور تب سے اب تک اس کاروبار کو کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

اس میں بنیادی رکاوٹ مسلسل تین سال تک کابل میں جوتے بنانے والی موجودہ فیکٹریوں کو چپلیں بنانے کا ٹھیکہ دینے میں ناکامی تھی۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے میتھیو گریفن خود اپنی فیکٹری کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

میتھیو گریفن نے دو ہزار چھ میں فوج چھوڑ دی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت میرے دو بچے تھے اور میں بمشکل ہی گھر جایا کرتا تھا۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا۔‘

لیکن تین سال بعد ہی وہ پھر سے افغانستان میں تھے۔ اس بار وہ طبی امداد اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے امریکی کمپنی کے ہمراہ تھے۔

اسی ادارے میں کام کے دوران میتھیو گریفن نے کابل میں جوتوں کے کارخانے کا دورہ کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے:’میں یقین نہیں کر پا رہا کہ غیر ملکی فوج کی آمد کے بعد کابل میں کتنی بہتری آئی ہے۔‘

’میں خود کو محفوظ محسوس کر رہا ہوں اور یہاں کے چھوٹے کاروبار بڑھ رہے ہیں۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ ہم ان کی مدد کے لیے فوجیوں کے بجائے تاجر کیوں نہ بھیجیں۔‘

’میں نے جوتوں کے کارخانے کا دورہ کیا اور میں نے جو کچھ دیکھا میں اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ یہ ایک صاف، جراثیم سے پاک اور جدید صنعتی سہولیات سے لیس جگہ تھی۔ یہاں فوج کے لیے جوتے بنائے جا رہے تھے لیکن یہاں بہت سہولت سے چپل بھی بنائے جا رہے تھے۔ اور یہاں سے مجھے اس کاربار کا خیال آیا۔‘

Image caption میتھیو گریفن نے غیر ملکی افواج کی آمد کے بعد کابل کو پہلے سے محفوظ اور بہتر محسوس کیا

میتھیو گریفن اور ان کے دو دوستوں نے دو ہزار گیارہ کے اوائل میں باقاعدہ کاروبار کا آغاز کیا۔

ان میں سے کسی کو بھی جوتے بنانے کا تجربہ نہیں تھا۔ تو ایسے میں میتھیو گریفن کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک دانش مندانہ کام کیا ’ہم نے گوگل کیا کہ فلپ فلاپ (چپل) کیسے بنتے ہیں۔‘

انہوں نے کاروبار کے لیے جمع کیے ہوئے پیسوں کا استعمال کیا۔ کابل میں جوتوں کی پیداوار سے پہلے میتھیو گریفنن اور ان کے دوستوں نے چین سے نمونے کے طور پر چپولوں کی سو جوڑیاں بنوائیں۔

یہ نمونے آرڈر حاصل کرنے کے لیے اچھی مثال تھے۔

اور کامبیٹ فلپ فلاپ نے کابل میں جوتے بنانے والے کارخانے سے دو ہزار جوڑوں کے لیے ایک معاہدہ کیا۔

لیکن جب سنہ 2012 میں وہ یہ چپلیں لینے آئے تو انہیں احساس ہوا کہ یہ اچھی طرح نہیں بنیں۔

میتھیو گریفن کہتے ہیں ’وہ ایک ناقابلِ فراموش لمحہ تھا، ہم نے بیس منٹ میں سگریٹ کی پوری ڈبی پی لی۔‘

’آخر کار ہم نے یہ کیا کہ چپولوں کی وہ دو ہزار جوڑیاں کابل میں لوگوں کو دے دیں۔‘

میتھیو گریفن ایک دوسری فیکٹری کے پاس گئے لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ آرڈر بہت چھوٹا ہے۔ تاہم ایک تیسری فیکٹری نے ان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔

’ایسا لگا کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے لیکن جلد ہی ہم نے سنا کہ فیکٹری نے فوجی بوٹ بنانے کا آرڈر کھو دیا ہے اس لیے وہ بند ہو رہی ہے۔ ایک بار پھر ہمارے ہاتھ خالی تھے۔‘

میتھیو گریفن نے بھاری دل کے ساتھ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار آرڈرز امریکہ سے پورے کرنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن گریفنن کو امید ہے کہ آئندہ برس افغانستان میں چپل سازی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اسی دوران کامبیٹ فلپ فلاپ کمپنی افغان خواتین کے بنائے ہوئے ملبوسات اور سکارف کا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے۔

میتھیو گریفن کہتے ہیں ’یقیناً اس کاروبار میں کئی رکاوٹیں ہیں لیکن فوج میں رینجر کے طور پر کیا گیا کام میری بہترین تربیت ہے۔ آپ کو بہت کم وقت میں انتہائی دباؤ کی صورتحال میں خود کو مشکل سے نکالنے کا طریقۂ کار سوچنا ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں