کیا یہ نئی سیاست کا آغاز ہے؟

Image caption عام آدمی پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو ہے جو سیاست میں صفائی کی علامت ہے

دہلی کے انتخابات میں ’عام آدمی پارٹی‘ محض سات نشتسوں کی کمی سے اکثریت حاصل کرنے سے رہ گئی۔ اسے 28 سیٹیں ملیں اور وہ بی جےپی سے صرف چار سیٹوں سے پیچھے رہی۔ 70 رکنی اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں ‏عام آدمی پارٹی 20 سیٹوں پر دوسرے مقام پر رہی۔

دہلی اسمبلی کے ان انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل سکی۔ بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے کم از تین سیٹیں مزید چاہییں۔ عام آدمی پارٹی یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ نہ تو کسی جماعت کی حمایت لے گی اور نہ ہی کسی جماعت کی حمایت کرے گی۔ نتیجتاً اسمبلی معلق ہے۔

عام حالات میں بی جے پی اب تک آسانی سے تین ارکان دوسری جماعتوں سے توڑ کر اپنی حکومت بنا چکی ہوتی۔ لیکن ‏عام آدمی پارٹی کی آمد کے بعد بی جے پی یہ جرات نہیں کر پا رہی کہ وہ ارکان کی خرید و فروخت کرتی ہوئی دیکھی جائے۔

اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ دہلی اسمبلی کا کیا ہو گا۔ لیکن غالب امکان ہے کہ چند ہفتوں یا مہینوں میں یہاں دوبارہ انتخابات کرانے پڑیں۔ نئے انتخاب کے تصور سے ہی بی جے پی اور کانگریس کی نیند اڑی ہوئی ہے۔

بد عنوانی کے خلاف انّا ہزارے کی تحریک سے وجود میں آنے والی عام آدمی پارٹی ابھی محض ایک برس پرانی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ جماعت بھارت کی پرانی سیاسی جماعتوں کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔

بھارت کی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب ایک سیاسی جماعت نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیاست پوری ایمانداری کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہے۔ جن انتخابات پر روایتی جماعتیں سینکڑوں اور کبھی ہزاروں کروڑ روپے صرف کرتی رہی ہیں اور جن کا کوئی حساب نہیں ہوتا تھا، وہیں عام آدمی پارٹی نے 70 رکنی اسمبلی کے انتخاب کے لیے صرف 20 کروڑ روپے صرف کیے۔ پارٹی نے اپنے چندے کا پورا حساب اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے۔

بھارت کے عوا م کانگریس سے بیزار ہو چکے ہیں۔ پورے ملک میں کانگریس کے خلاف فضا بنی ہوئی ہے۔ لیکن بی جے پی بھی خود کو متبادل کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Image caption ملک کے 300 اضلاع میں اس جماعت کی اکائیاں پہلے ہی وجود میں آ چکی ہیں۔ ملک کے سیاسی افق پر عام آدمی پارٹی کے رنگ واضح صور پر نظر آنے لگے ہیں

ملک کی نئی نسل شفاف سیاسی نظام، ترقی یافتہ معیشت اور فیصلہ کن قیادت کی متمنی ہے۔ کوئی موثر لیڈر شپ نہ ابھرنے کے سبب انھیں انفرادی طور پر نریندر مودی کی قیادت میں کچھ حد تک یہ خوبیاں نظر آئیں۔ لیکن ‏‏‏عام آدمی پارٹی کے آنے سے مودی اور بی جے پی دونوں کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے قومی سیاست میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے عوام سے اپنی جماعت میں بڑے پیمانے پر شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ ملک کے 300 اضلاع میں اس جماعت کی اکائیاں پہلے ہی وجود میں آ چکی ہیں۔ ملک کے سیاسی افق پر عام آدمی پارٹی کے رنگ واضح صور پر نظر آنے لگے ہیں۔

بھارت کی سیاست اس وقت ایک مثبت تغیر سےگزر رہی ہے۔ بے ایمانی اور بد انتظامی میں ڈوبے ہوئے سیاسی نظام کو پہلی بار ایک سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ ملک کے عوام تبدیلی کے انتظار میں ہیں۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات بھارت کی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔

اسی بارے میں