سزائے موت کے خلاف عبدالقادر ملا کی اپیل مسترد

Image caption عبدالقادر ملّا سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب پائے گئے

بنگلہ دیش میں سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

جج نے سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے عبدالقادر ملا کی پھانسی کے لیے مزید راہ ہموار کی ہے۔

عبدالقادر مُلا کی عمرقید سزائے موت میں تبدیل

بنگلہ دیشی رکنِ پارلیمان کو سزائے موت

جمعرات کو عدالت کے فیصلے کے بعد ملک کے اٹارنی جنرل محبوبِ عالم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اب انھیں پھانسی دینے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔‘

عبدالقادر ملا پر سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

جنگی جرائم کی عدالت نے انھیں ابتدائی طور پر عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے حکومت کی اپیل پر اسے سزائے موت میں بدل دیا تھا۔

انھیں اس سے پہلے منگل کو سزائے موت دی جانی تھی تاہم آخری لمحوں میں اس پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں منگل کو بنگلہ دیشی حکام نے عبدالقادر ملا سے ان کے خاندان والوں کی آخری ملاقات بھی کروائی تھی۔

منگل کو رات گئے وکلائے صفائی سپریم کورٹ کے سینیئر جج سید محمد حسین کے گھر گئے اور سزا کے خلاف حکمِ امتناعی حاصل کیا۔ سزا میں تعطل کے باعث وکلائے صفائی کو سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی درخواست دائر کرنے کا وقت مل گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس درخواست پر بدھ اور جمعرات کو سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل محبوبِ عالم نے کہا کہ عبدالقادر ملا نے اپیل کے تمام ذرائع استعمال کر لیے ہیں اور انھیں صدر سے رحم کی درخواست کا حق بھی نہیں ہے۔

تاہم وکلائے صفائی نے ان کے اس بیان کو مسترد کیا ہے۔

جمعرات کو عدالت کے فیصلے سے قبل ہی دارالحکومت ڈھاکہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

عبدالقادر ملا کا تعلق جماعتِ اسلامی سے ہے جو ایک بیان میں کہہ چکی ہے کہ اگر انھیں پھانسی دی گئی تو اس کے خوفناک نتائج سامنے آئیں گے۔

ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی عسکری تنظیم کے رکن تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جنگ کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔

Image caption عبدالقادر ملّا کی پھانسی سے ملک بھر میں تشدد کی تازہ لہر اٹھنے کا خدشہ ہے

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی عدالت نے گذشتہ چند ماہ کے دوران جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں کو سنہ 1971 کی جنگ میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا مرتکب پایا ہے اور انہیں پھانسی اور عمر قید کی سزاؤں کا حقدار قرار دیا ہے۔

بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل سنہ 2010 میں بنایا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنھوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کا یہ ٹربیونل بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ سنہ 1971 میں جنگ کے دوران 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ بعض محققین کے مطابق یہ تعداد تین سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔

اسی بارے میں