شہباز شریف کی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات

Image caption شہباز شریف نے کہا کہ اگر دونوں ملک اپنے اختلافات ختم کر لیں تو وہ غربت کا مقابلہ کرسکتے ہیں

پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے جمعرات کو دہلی میں وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی اور باہمی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کےمطابق شہباز شریف نے وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے من موہن سنگھ کو ’جذبۂ خیرسگالی‘ کا پیغام بھی دیا اور کہا کہ پاکستان دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے عزم کا پابند ہے۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کے بعد انھوں نے کہاکہ اگر دونوں ملک اپنے اختلافات ختم کر لیں تو وہ غربت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

بھارتی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ایک ’کرٹسی‘ ملاقات تھی جس میں کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔

ملاقات میں خارجہ امور پر وزیر اعظم نواز شریف کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور وزیر تجارت خرم دستگیر خان بھی شریک تھے۔

ملاقات سے پہلے یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ شہباز شریف ایک مرتبہ پھر مسٹر سنگھ کو پاکستان آنے کی دعوت دیں گے۔

لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ سیاسی صورت حال میں من موہن سنگھ کے لیے اس دعوت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ملک میں جلدی ہی پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں اور فی الحال باہمی تعلقات کی نوعیت ایسی نہیں ہے کہ ان کے پاکستان جانے کا کوئی سیاسی یا سفارتی جواز پیش کیا جاسکے۔

گذشتہ ایک سال سے دونوں ملکوں کے تعلقات تلخی کا شکار ہیں اور پاکستانی وزیر اعظم کے اس مبینہ بیان کے جواب میں کہ کشمیر کے مسئلے پر دونوں ملکوں کےدرمیان ایک اور جنگ ہوسکتی ہے، منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، پاکستان ایسی کوئی جنگ نہیں جیت سکتا۔

شہباز شریف بھارتی ریاست پنجاب میں اکالی دل حکومت کی دعوت پر انڈیا آئے ہیں اور ان کے دورے کا بنیادی مقصد باہمی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ وہ خاص طور پر شمالی ہندوستان میں تجارت، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں اشتراک کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

اپنے دورے میں شہباز شریف ہریانہ میں ایک تھرمل پاور پلانٹ کا بھی معائنہ کریں گے۔ جمعرات کو انھوں نے دہلی کی میٹرو ٹرین پر بھی سفر کیا۔

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کے برسرِاقتدار آنے کے بعد یہ ذکر شروع ہوا تھا کہ ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو پنجاب کے راستے گیس اور بجلی سپلائی کی جاسکتی ہے لیکن ابھی اس سمت میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

پاکستان کی دلچسپی پانچ سو میگاواٹ بجلی خریدنے میں تھی اور انڈیا میں ماہرین کا خیال تھا کہ بجلی سپلائی کرنے میں کوئی تکنیکی دشواری نہیں ہے، لیکن لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی وجہ سے اس تجویز کو فی الحال عملی شکل نہیں دی جاسکی۔

پاکستان ریلوے کے شعبے میں بھی انڈیا کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، تاکہ ملک میں ریلوے کے خستہ حال نظام کو واپس پٹری پر لایا جا سکے۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان نے انڈیا سے ریل کے انجن بھی کرایے پر لینےمیں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

اسی بارے میں