ہم جنسیت پر کسی کو اعتراض کیوں؟

Image caption بھارت میں سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد بہت سے لوگوں نے مظاہرے کیے

ہم جنسیت دنیا کے ہر معاشرے میں دور قدیم سے موجود رہی ہے۔ انسانی تہذیب اور ثقافت کے ارتقا سے جو اخلاقی قدریں مہذب معاشروں کا حصہ بنیں ان میں ہم جنسیت کو کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔

دنیا کے تقریباً سبھی مذاہب نے ہم جنس پرستی کو نہ صرف غیر فطری عمل قرار دیا بلکہ کئی مذاہب میں ہم جنس پرستی کے لیے سزائیں بھی متیعن کی گئیں۔

چونکہ جمہوری نظام انفرادی آزادی، مساوات اور آزادی اظہار کا ضامن ہے اس لیے ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا ہم جنس پرستی بھی انفرادی حق کے دائرے میں آتی ہے یا نہیں اور کیا اسے تسلیم نہ کرنے سے فرد کے انفرادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

انسانی معاشرہ اور تہذیب ایک ارتقا پزیر نظام کا حصہ ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی سوچ اور قدریں بھی بدلتی ہیں اور معاشرہ بھی تبدیل ہوتا ہے۔ ہم جنس پرستی ہمیشہ سے موجود رہی ہے لیکن چونکہ اسے سماج میں قبولیت حاصل نہیں تھی اس لیے ہم جنسیت کا رحجان رکھنے والے لوگ تفریق اور اجتماعی اہانت کے خوف سے سامنے نہیں آتے تھے۔

ہم جنسیت کی تحریک یوروپ اور امریکہ میں مساوی حقوق کے لیے طویل عرصے سے جد وجہد کرتی رہی ہے۔ رفتہ رفتہ اسے معاشرے کی ایک حقیقت اور دو انسانوں کے درمیان ایک فطری جنسی رحجان کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا۔

یوروپ کے بیشتر مما لک اور امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں ہم جنسیت کی بنیاد پر تفریق اور اہانت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ بہت سے ممالک میں ایک ہی جنس کے دو افراد کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت بھی مل چکی ہے۔ ویٹیکن میں بھی اس معاشرتی اور انسانی حقوق کے پہلو پر بحث و ماجثے جاری ہیں۔

بھارت میں سو برس پرانے نو آبادیاتی دور کے ایک قانون کے مطابق ایک ہی جنس کے دو افراد کے درمیان جنسی تعلقات نہ صرف غیر فطری ہیں بلکہ ان سے قانون کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ایسے جسنسی تعلقات پر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارت کا آئین انفرادی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کے مطابق کوئی بھی دو بالغ انسانوں کو پرائیوسی میں باہمی مرضی کے ساتھ جنسی تعلقات کا حق حاصل ہے۔ چار برس قبل دہلی ہائی کورٹ نے انفرادی آزادی کا تحفظ کرتے ہوئے ہی ہم جنسوں کے درمیان جنسی تعلقات کو جرم کے زمرے سے نکال دیا تھا کیونکہ اس سے فرد کی آزادی اور باہمی رضامندی سے کسی کوپسند کرنے کی آزادی کے حق کو زک پہنچ رہا تھا۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آئین اور دستور کی حکمرانی اور انفرادی آزادی کے حقوق کے ارتقا میں تاریخی حیثیت کا حامل تھا۔

لیکن سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے ہم جنسوں کے درمیا ن باہمی رضامندی کے تعلقات کو دوبارہ جرم کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے سے وقت کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس فیصلے پر ہر طرف سے تنقید ہو رہی ہے۔ معاشرتی سوالوں پر ہمیشہ مصلحتی خاموشی اختیار کرنے والی بعض سیاسی جماعتوں نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔

صرف بھارت کی مذہبی تنظیموں نے سپریم کورٹ کی ستائش کی ہے۔ ان کی ستائش بالکل جائز بھی ہے کیونکہ وہ ہم جنسیت کے سخت خلاف ہیں وہ ایک ہی جنس کے دو انسانوں کے درمیان جنسی تعلقات کو نہ صرف غیر فطری قرار دیتی ہیں بالکہ اس کے بڑھتے ہوئے رجحان کو وہ روایتی معاشرے اور خاندان کے تصور کے لیے ایک خطرہ سمجھتی ہیں۔ بیشتر مذہبی گروپس ہم جنسیت کو جرم کے زمرے میں رکھنے کے بھی حامی ہیں۔

ہم جنس پرست لسسانی اور مذہبی اقلیتوں کی طرح کی ہی ایک انسانی اقیلت ہیں جو انسانی رشتوں اور جنسیات کے عمل کو مروجہ اور روایتی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھ رہی ہیں ۔ ان کا یہ تصور کسی مذہب، آئین اور کسی نظریے یا کسی دوسرے فردکی آزادی سے متصادم نہیں ہے۔ ہم جنسیت دو انسانوں کے درمیان باہمی رضاممندی اور فطری کشش سے پیدہ ہونے والا ایک انسانی اور جذباتی رشتہ ہے۔ ایسے رشتوں سے کسی دوسرے فرد کی آزادی مجروح نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی قانون کی خلاف ورزی۔

یقیناً بہت سے لوگوں کے لیے یہ غیر مروجہ اور غیر رواتی طرز زندگی اور اور جنسی عمل قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ وہ اس رشتے کو فطرت کے اصولوں کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ انھیں یہ سوچ رکھنے اورہم جنسیت کو قبول نہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی آزادی اور زندگی میں دخل دیے بغیر اپنی زندگی اپنی مرضی اور اپنے طرز پر جینے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے بھی اپنی زندگی جینے کا پورا حق حاصل ہے۔

اسی بارے میں