عدالتی فیصلے کے خلاف ہم جنس پرستوں کے مظاہرے

Image caption بھارت میں کئی برسوں سے ہم جنس پرستی متنازع اور بحث طلب مسئہ رہا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس پرست افراد کے جنسی تعلق کو غیرقانونی قرار دیے جانے کے خلاف دارالحکومت نئی دہلی سمیت متعدد شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

اتوار کو نئی دہلی میں سینکڑوں ہم جنس پرست افراد نے عدالتی حکم کے خلاف مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ نوآبادیاتی دور کے اس قانون کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

بھارتی تعزیرات کی دفعہ 377 کے تحت ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان جسمانی تعلقات کو جرم قرار دیا گیا ہے اور اس فعل کے لیے انہیں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے 2009 میں اپنے فیصلے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کو مساوات کے اصول کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس دفعہ سے انفرادی آزادی مجروح ہوتی ہے جو کہ ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔

تاہم بھارت کی سپریم کورٹ نے رواں ماہ کی گیارہ تاریخ کو کہا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستوں کے درمیان جنسی تعلق کو جرم کے زمرے سے نکال کر غلطی کی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نئی دہلی میں مظاہرین نے سروں اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اور پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ہم جنس پرستی کے حق میں اور متنازع قانون کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین میں شامل روہن مہتا نے کہا کہ یہ واپس جانے کا وقت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ میرا حق ہے کہ میں اپنے ساتھی کا انتخاب کروں۔ محبت کرنا میرا بنیادی حق ہے اور یہ فیصلہ مکمل طور پر اس کے خلاف ہے۔‘

نئی دہلی کے علاوہ بھارت کے دیگر شہروں میں بھی ہم جنس پرستوں نے مظاہرے کیے اور عدالت سے فیصلہ بدلنے کا مطالبہ کیا۔

بھارت میں کئی برسوں سے ہم جنس پرستی متنازع اور بحث طلب مسئلہ رہا ہے۔ کئی سیاسی اور مذہبی شخصیات نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سے ہم جنس پرستی کے خلاف مہم تیز کر دی تھی۔

اس کی قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما بی پی سنگھل کر رہے ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی کو غیر اخلاقی، غیر قانونی، بھارتی تہذیب و ثقافت کے خلاف اور غیر فطری عمل بتایا تھا۔

ادھر ہم جنس پرست اور حقوق انسانی کی تنظیمیں ایک عرصے سے حکومت سے یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ وہ دفعہ 377 کو ختم کر دے۔ ان کی دلیل تھی کہ ہم جنس پرستی سماج کی ایک حقیقت ہے اور اسے بدلتے ہوئے حالات میں قانونی طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں