71 کے زخم آج بھی تازہ ہیں

Image caption بنگلہ دیش کی حکومت کئی مرتبہ مطالبہ کر چکی ہے کہ پاکستانی ریاست 1971 کے واقعات کے لیے معافی مانگے

آج سے تقریباً دو سال قبل جنوبی ایشیا سوشل فورم کے تحت میرا ڈھاکہ جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دوران میری وہاں جتنے بنگالی نوجوانوں سے بات چیت ہوئی وہ سب 1971 کی جنگ کے بارے میں مجھے بہت جذباتی نظر آئے۔ اس موضوع پر اُن سے کی جانے والی کوئی بھی بحث ان کے خاندان اور عزیز و اقارب پر بیتے ظلم کی کسی نہ کسی داستان پر ختم ہوتی۔

ڈھاکہ کے در و دیوار جنگ کے دوران اُن پر بیتی ظلم و بربریت کی داستانیں سُناتے ہیں۔ شہید مینار سے لے کر سُہروردی باغ تک جنگ کے دوران کے مناظر دیواروں پر نقش ہیں۔

قومیت کا ایک اظہار قومی زبان ہوتا ہے جس کا اطلاق ڈھاکہ کی ہر شے پہ ہوتا ہے۔ آپ ڈھاکہ میں گھومیے۔ وہاں بمشکل آپ کو کسی دُکان کا سائن بورڈ انگریزی زبان میں لکھا نظر آئے گا۔ بنگالی سے نابلد سیاح کو دُکان پہ بِکنے والی اشیا دیکھ کر اندازہ لگانا پڑتا ہے کہ آخر یہاں کیا فروخت کیا جاتا ہے۔

آپ بازاروں میں جنگ آزادی سے متعلق کوئی کتاب خریدنے جائیں تو اس موضوع پر انگریزی زبان میں لکھی گئی کتابیں نایاب ہوں گی۔

ہماری شکلوں اور لہجوں سے شاید عیاں تھا کہ ہم بھارت نہیں بلکہ پاکستان کے باسی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارا گروپ دو بنگالی دوستوں کے ساتھ ڈھاکہ یونیورسٹی کے باغ میں بیٹھا موسیقی سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ ایسے میں ایک شحض ہمارے پیچھے کھڑا اونچی آواز میں مسُلسل کچھ بول رہا تھا۔

چونکہ وہ بنگالی زبان میں بات کر رہا تھا اس لیے میری سمجھ میں کوئی بات نہ آئی۔ لیکن اُس کے لہجے کی کرختگی، چہرے پہ شدید نفرت کا رنگ، اور جملوں میں پاکستان کے لفظ نے میرے اشتیاق کو ہوا دی کہ میں جانوں آخر وہ کیا کہہ رہا ہے۔ مگر میرے استفسار کے باوجود میرے بنگالی ساتھیوں نے مجھے نہ بتایا کہ آخر اُس شخص نے کیا کہا۔

71 کی جنگ سے پہلے اور اُس جنگ کے دوران بنگالیوں پر ڈھائے گئے مظالم اور اُن کے زخم بنگال کی دوسری نسل میں آج بھی تازہ ہیں۔ انھی جذبات کے پیش نظر، سوشل فورم کے اختتام پر پاکستان سے جانے والے جن لوگوں نے خطاب کیا انھوں نے اپنے تئیں بنگالی قوم سے معافی مانگی۔ لیکن بنگالیوں کا آج بھی مطالبہ ہے کہ اُن مظالم کی پاکستان کی ریاست معافی مانگے۔

اسی بارے میں