بھارت میں ’شیر شماری‘

Image caption سال 1947 میں بھارت میں تقریباً 40 ہزار شیر تھے

بھارت میں چوتھی بار شیروں کی گنتی شروع کی جا رہی ہے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ ملک میں شیروں کی تعداد میں کتنی کمی بیشی ہوئی ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق دو ہزار تربیت یافتہ افراد ایک ہفتے تک مختلف علاقوں میں شیروں کی گنتی کریں گے۔

شیروں کی گنتی کے لیے سینسرز اور کیمروں کا استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شیروں کے پنجوں کے نشانات کی مدد سے بھی ان کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے گا۔

تاہم بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ شیروں کی گنتی کے لیے جو طریقہ استعمال کیا جائے گا اس میں خامیاں ہیں اور وہ فرسودہ ہو چکا ہے۔

شیروں کے ماہر اولس کرانتھ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ گنتی کے طریقۂ کار کے نتائج میں شیروں کی نشاندہی کرنے والے ماہر افراد بھی غلطیاں کریں۔

بھارت میں شیروں کی گذشتہ گنتی کے نتائج کے مطابق ملک میں شیروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2010 اور 2011 کے لیے کیے جانے والے سروے کے مطابق 2006/7 کے مقابلے میں شیروں کی تعداد 1411 سے بڑھ کر 1706 ہو گئی تھی۔

تاہم دا ہندو اخبار کے مطابق شیروں کی آبادی کو اب بھی شکاریوں سے خطرہ لاحق ہے اور چار سال کے دوران ان کی آبادی کا علاقہ 93697 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر 81881 مربع کلومیٹر تک محدود رہ گیا ہے۔

اس سے پہلے سال 2006/7 میں شیروں کی تعداد میں بھاری کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ اس وقت ملک میں 1411 شیر تھے جب کہ تقریباً 20سال پہلے شیروں کی تعداد تین ہزار کے آس پاس تھی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 1947 میں بھارت میں تقریباً 40 ہزار شیر تھے لیکن پہلے راجہ مہاراجاؤں کے شکار کے شوق اور پھر مشرقی ایشیائی ممالک میں دواؤں میں استعمال کے لیے شیروں کے اعضا کی بھرپور مانگ کی وجہ سے ان کی تعداد تیزی سے کم ہوتی چلی گئی۔

اسی بارے میں