بھارت:لوک پال بل بالآخر پارلیمان سے منظور

Image caption مجوزہ قانون کے تحت ایک آزاد لوک پال ادارہ قائم کیا جائے گا

بھارت کے سرکاری محکموں اور سیاست میں بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے بھارت کی پارلیمنٹ نے بالآخر لوک پال نامی احتسابی بل منظور کر لیا ہے۔

پارلیمان سے منظوری کے بعد صدر کی دستخط کے ساتھ ہی یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا اور اس کا نفاذ عمل میں آ جائے گا۔

لوک پال بل پہلی بار پینتالیس سال پہلے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس وقت سے یہ آٹھ بار مختلف شکلوں میں پارلیمنٹ میں پیش ہوتا رہا ہے لیکن ابھی تک اسے کبھی منظوری نہیں مل سکی تھی۔

نئے لوک پال بل کو منگل کو ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں متعدد ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا تھا اور بدھ کو لوک سبھا یعنی ایوان زیریں نے بھی اس کی منظوری دی۔

صرف ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی اور شیو سینا نے اس بل کی مخالفت کی۔ ان دونوں جماعتو ں کا کہنا تھا کہ یہ مجوزہ قانون ہر اہلکار اور وزارت کے لیے مصیبت بن جائے گا اور ہر کوئی بڑے فیصلے کرنے سے ڈرنے لگے گا۔

اس احتسابی ادارے کے قیام کے لیے سب سے پہلے سماجی کارکن انا ہزارے نے تقریباً دو برس قبل ایک تحریک شروع کی تھی۔ ان کی تحریک کو اتنی زبردست عوامی مقبولیت حاصل ہوئی کہ پارلیمنٹ کو جھکنا پڑا اور لوک پال بل ایوان میں پیش کیا گیا۔

ایک عرصے تک اس بل کے موثر ہونے کے بارے میں بحث ہوتي رہی اور اب یہ بل اسی وقت منظور ہو سکا جب حکمراں کانگریس اور اپوزیشن بی جے پی دونوں کو ہی زبردست عوامی دباؤ کے نتیجے میں اس بل کے حق میں ووٹ دینا پڑا۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے لوک پال بل کی منظوری کو ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔

انا ہزارے اس بل کی منظوری کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے دوبارہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے تاہم اب انہوں نے اپنی ہڑتال ختم کر دی ہے۔

انہوں نے لوک پال بل کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدعنوانی پر قابو پانے کی طرف پہلا قدم ہے ’اب سبھی کو یہ یقینی بنانا ہے کہ لوک پال قانون کا نفاذ موثر طریقے سے کیا جاتا ہے۔‘

سرکاری سطح پر پھیلی ہو ئی برعنوانی پر قابو پانے کے لیے اس مجوزہ قانون کے تحت ایک آزاد لوک پال ادارہ قائم کیا جائے گا جس کے سربراہ اور دیگر ارکان کا انتخاب آزادانہ طریقے سے ہوگا۔

مرکزی تفتیشی بیورو ایک آزاد ادارہ ہو گا اور وہ بدعنوانی کے تمام معامالات کی جانچ اپنے طور پر اور دوسروں کی شکایت کی بنیاد پر کرے گا۔ معمولی کلرک سے لے کر بعض تحفظات کے ساتھ وزیراعظم تک اس ادارے کے دائرہ کار میں ہوں گے۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انا ہزارے کے سابقہ ساتھی کیجریوال نے لوک پال بل کو بے اثر کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

کیجریوال انا سے الگ ہو چکے ہیں اور ان کی جماعت عام آدمی پارٹی آئندہ ہفتے دلی میں اپنی حکومت تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔

عام آدمی پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے سات سیٹیں کم ملی ہیں اگر کیجریوال کی اقلیتی حکومت بن گئی تو وہ 29 دسمبر کو دلی اسمبلی کے ایک اجلاس میں ایک ریاستی سطح کا احتسابی بل پاس کرنے والی ہے۔

اسی بارے میں