’بھارتی سفارت کار کے خلاف الزامات واپس نہیں لیے جائیں گے‘

Image caption بھارت کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس سے معافی مانگنا ہو گی

امریکی وزارتِ خارجہ نے بھارت کے ساتھ امریکہ میں ایک خاتون بھارتی سفارت کار کی گرفتاری سے شروع ہونے والے سفارتی تنازع پر ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی سفارت کار دیویانی كھوبراگاڑے کے خلاف الزامات واپس نہیں لیے جائیں گے۔

بھارتی سفارت کار نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں۔

بھارت خاتون سفارت کار کی گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگاڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت ادا نہیں کر رہی تھیں اور ان کی ویزا کی درخواست میں بھی کچھ بے قائدگیاں کی گئی تھیں۔

بھارتی حکومت نے جمعہ کو ایک مرتبہ پھر امریکی حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ دہرایا اور کہا امریکہ بھارت کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔

بھارت کے پارلیمانی امور کے وزیر کمل ناتھ نے اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ دنیا بدل گئی ہے، وقت بدل گیا ہے اور بھارت بدل گیا ہے۔

قبل ازیں بدھ کو بھارت کے کئی منتخب اراکین نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ امریکہ کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

بھارت میں ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اراکین نے امریکہ میں بھارتی سفارت کار کے ساتھ ہونے والے ’ناروا سلوک‘ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے امریکہ سے معافی کا مطابلہ کیا تھا۔

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ امریکہ میں بھارتی سفارت کار ’دیویانی كھوبراگاڑے کو بحفاظت ملک واپس لانے کی ذمہ داری میری ہے اور میں انھیں واپس لا کر دكھاؤں گا۔‘

واضح رہے کہ دیویانی پر امریکہ میں ویزا قوانین کے سلسلے میں جعل سازی کے الزامات کا سامنا ہے اور اسی لیے انھیں برہنہ کرکے ان کی تلاشی لی گئی ہے۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے باہر اس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے بدھ کے روز بھارت کے ایوانِ بالا میں امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی گرفتاری پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اس موضوع پر برسرِ اقتدار پارٹی اور اپوزیشن کو ایوان اور ایوان کے باہر یا میڈیا میں ایک سُر میں بولنا ہوگا۔۔۔ اس معاملے پر ہم مختلف رائے ظاہر نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے بھارتی سفارت کار کے ساتھ جو کیا ہے، وہ کسی بھی قیمت پر قابلِ قبول نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بابت خبر موصول ہوتے ہی حکومت نے مناسب ذرائع سے فوری طور پر رد عمل کا اظہار کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی وزارت بھارتی سفارت کار کو امریکہ میں ہر ممکن قانونی اور دیگر طرح کی مدد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے اس پورے معاملے کو سازش قرار دیا۔

وزیرِ خارجہ نے ایوان کو اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات دیں۔ انھوں نے کہا کسی بھی امریکی سفارت کار کو نیا شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا اور انھیں بغیر محصول کے سامان درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب امریکہ میں اسے معمول کی کارروائی قرار دیا ہے۔

نیویارک سے صحافی سلیم رضوی کے مطابق ’امریکی نظام کے تحت گرفتاری کے بعد امریکی وزارتِ خارجہ کا کردار ختم ہو جاتا ہے ، اس لیے وزارت خارجہ کے سکیورٹی ایجنٹوں نے بھارتی سفارت کار کو امریکہ کی وفاقی عدالتی نظام کے تحت سکیورٹی ایجنسی یعنی امریکی مارشل سروس کے حوالے کر دیا۔‘

امریکی مارشل سروس کے ایجنٹوں یہ کام ہوتا ہے کہ وہ قیدیوں کو عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ان کی نگرانی کریں اور مکمل طور ان کی چھان بین بھی کریں تاکہ کوئی ہتھیار چھپا کر نہ لے جا سکے۔

اسی لیے دیویانی كھوبراگاڑے کو عدالت میں جج کے سامنے پیش کیے جانے سے پہلے جس سیل میں انھیں رکھا گیا تھا وہاں امریکی وفاقی قانون کی کئی دیگر خواتین ملزم بھی موجود تھیں اور ان کی جامہ تلاشی لی گئی۔

Image caption امریکی حکام نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ دیویانی کھوبرا گڑے کو گرفتاری کے بعد برہنہ تلاشی کا سامنا بھی کرنا پڑا

اس سے پہلے راجیہ سبھا میں ممبران نے اس معاملے کو ملک کی توہین قرار دیتے ہوئے حکومت سے سخت قدم اٹھانے کی مانگ کی۔ ارکان کا مطالبہ تھا کہ اس معاملے میں سفارتی سطح پر درج مقدمہ واپس لیا جائے اور اس کے لیے امریکہ معافی مانگے۔

بحث کا آغاز راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کیا۔ انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور اسے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا۔

جنتا دل یونائٹڈ کے شیوانند تیواری نے کہا کہ ’امریکہ میں بھارتی سفارت کار کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوا ہے ، وہ ویانا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

حکومت کے رد عمل کی حمایت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پہلی بار حکومت نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دیویانی كھوبراگاڑے پر درج معاملے کو واپس لیتے ہوئے امریکہ کو بھارت سے معافی مانگنی چاہیے۔‘

سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ ’اس واقعے کے بعد پورے ملک میں غصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں یہ اس طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے ، وہاں اس طرح کے سلوک پہلے جارج فرنانڈیز، سابق صدر اے پی جے عبدالکلام، فلم اداکار شاہ رخ خان اور اتر پردیش کے وزیر اعظم خان کے ساتھ بھی ہو چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے واقعات پر پہلے سخت ردِعمل ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے ہی امریکہ نے پھر ایسی حرکت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ہم امریکہ کو بڑا تسلیم کرتے رہنے کے احساسِ کمتری سے آزاد نہیں ہوں گے ، تب تک اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔‘

اسی بارے میں