کشمیر فتویٰ : ’آدھی بیوہ کی چارسال بعد شادی جائز‘

Image caption کشمیر میں ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء نے ایک متقفہ فتوی کے ذریعے چار سال سے زیادہ عرصے سے لاپتہ افراد کی بیویوں کو جنھیں ’آدھی بیوہ‘ بھی کہا جاتا ہے دوسرا نکاح کرنے کو جائز قرار دے دیا ہے۔

واضح رہے کشمیر میں چوبیس سال سے جاری مسلح شورش کے دوران ہزاروں افراد لاپتہ ہوگئے ۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ مسلح مزاحمت کو دبانے کے لئے فوج اور نیم فوجی اداروں نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کرکے فرضی جھڑپوں میں ہلاک کیا ہے جس کی وجہ سے وادی میں چھہ ہزار سے زائد گمنام قبروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کی تحقیق کے مطابق کشمیر میں ایسی ڈیڑھ ہزار خواتین ہیں جن کے خاوند لاپتہ ہیں۔ ان خواتین کے دوبارہ شادی سے متعلق چونکہ مسلم علماء کے درمیان اتفاق نہیں ہورہا تھا۔ علماء نے اس معاملہ پر غور کرنے کے لئے جمعرات کو کشمیر میں ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا جس کے دوران اُنیس سو انتالیس میں منظور کئے بھارت کے مسلم میریج ڈیزولیوشن ایکٹ کی توثیق کی گئی۔ مسلم علما نے بتایا کہ اس اتفاق رائے کے بعد اب جو فتوی جاری کیاجائے گا، اس کی رو سے بھی لاپتہ افراد کی مسلم بیوائیں چار سال بعد دوبارہ نکاح کی اہل ہونگی۔

قابل ذکر ہے کہ اُنیس سو انتالیس میں منظور کئے گئے بھارتی قانون ڈیزولیوشن آف میریج ایکٹ کی رو سے بھی معمول کے حالات میں کوئی شخص لاپتہ ہوجائے تو چار سال بعد اس کی بیوی دوبارہ شادی کرسکتی ہے۔ لیکن انڈین پینل کوڈ کے مطابق ایسے افراد کے بارے میں سات سال بعد یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ ان کی موت ہوگئی۔

انسانی حقوق کے ادارہ کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں کہ ’ڈیزولیوشن آف میریج ایکٹ‘ یا مسئلہ شرعی حکم الگ حالات کے تحت تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی علما نے مفقودالخبر افراد کے بارے میں فتوی دیا تھا، یعنی عام حالات میں تجارت یا سفر کے دوران کوئی لاپتہ ہوجائے یا رضاکارانہ طور کسی دوسرے ملک چلا جائے تو چار سال بعد دوبارہ شادی ہوسکتی ہے۔ ’لیکن کشمیر میں لاپتہ افراد کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ کس نے گرفتار کیا اور گمشدگی کے دوران انجام کیا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس شرعی حکم میں اجتہاد کرتے ہوئے ترمیم کی سخت ضرورت تھی۔‘

Image caption فتوی کی روشنی میں میریج ڈیزولیوشن ایکٹ کی توثیق کی گئی

علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرفاروق سے روایت کیا ہے کہ : ’جس خاتون کا شوہر مفقود الخبر {لاپتہ} ہوجائے تو عِدّت کے چار ماہ دس دن کا عرصہ چھوڑ کر اگر چار سال تک وہ واپس نہ آجائے تو خاتون دوبارہ نکاح کی اہل ہوگی۔‘

وسطی کشمیر کے میرواعظ سیّد لطیف بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نہایت اہم فتوی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علما کے درمیان گو کہ اس بات پر اختلاف تھا، لیکن ڈیڑھ ہزار خواتین کی سماجی زندگی کو علما کے اختلاف کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ میرواعظ بخاری کہتے ہیں: ’وہ خواتین پہلے ہی ایک صدمے سے دوچار ہیں، اور سماج میں انہیں قبولیت کی ضرورت ہے۔ یہ فتوی ایک اہم فیصلہ ہے۔‘