چین میں اب دو بچے پیدا کرنے کی اجازت

چینی آدمی
Image caption چین میں ایک بچہ پالیسی تیزي سے غیر مقبول ہورہی ہے

چین میں سرکاری خبررساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق ملک کی قانون ساز اسمبلی نے ایک بچہ پالیسی میں نرمی کی تجاویز کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے ایک قراردار پیش کر کے دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ والدین میں کسی ایک کا اکلوتی اولاد ہونا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ کمیٹی نے لیبر کیمپوں کے ذریعے دوبارہ تعلیم حاصل کرنے پر پابندی کی قرارداد کی منظوری دے دی ہے۔

چین کی ایک بچے کی پالیسی سے متعلق تبدیلی میں اعلان کمیونسٹ پارٹی کے ایک اعلیٰ اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔ ان تبدیلیوں کے باقاعدہ اعلانات سے پہلے ملک کے مختلف حصوں میں ان پر تجربات کیے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ چین میں نوجوانوں کی تعداد میں کمی درج کی گئی ہے۔ چین میں سال 1970 میں بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ایک بچہ پالیسی کا نفاذ کیا گیا تھا۔

ان اصلاحات کو عمل میں لانے کے لیے باقاعدہ قانونی طور پر منظوری کی ضرورت تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق چین میں ایک بچہ پالیسی تیزي سے غیر مقبول ہو رہی تھی اور ملک کے سیاسی رہنماوں کو ڈر تھا کہ ملک میں نوجوان آبادی کی کمی کے سبب کارکنوں کی تعداد میں کمی نہ آ جائے۔ اس کے علاوہ عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کرنے والے والوں کی بھی کمی ہو سکتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں 2050 تک ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی کی عمر65 برس سے زیادہ ہوگی۔

اسی بارے میں