’عام آدمی‘ کا دہلی کو پہلا تحفہ، بجلی کے بل میں پچاس فیصد چھوٹ

Image caption دہلی کے نئے وزیر اعلیٰ سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے دہلی میں بجلی کے بل کی شرح کو نصف کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

انھوں نے یہ اعلان منگل کی شام دہلی حکومت کے وزراء کے اجلاس کے بعد کیا جسے یکم جنوری سنہ 2014 کو شائع ہونے والے نمائندہ اخبارات نے نئے سال کے تحفے سے تعبیر کیا ہے۔

ادھر حزب اختلاف کی بڑی جماعت بی جے پی نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے جبکہ کانگریس نے کہا ہے کہ وہ اس کے دور رس اثرات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کچھ کہے گی۔

چھوٹ کی شرح دو درجوں یعنی صفر سے 200 اور 201 سے 400 یونٹوں پر نافذالعمل ہوں گی۔

اس سے قبل منگل کے روز دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل یعنی سی اے جی سے ملاقات کی۔

میٹنگ کے بعد کیجریوال نے کہا کہ آڈیٹر جنرل بجلی کمپنیوں کے آڈٹ کے لیے تیار ہیں۔

اجلاس کے بعد کیجریوال نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں سی اے جی سے ملا تھا اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بجلی کمپنیوں کی سی اے جی کے ذریعے جانچ ہو۔ اس بارے میں بجلی کمپنیوں کو کل صبح تک اپنے اعتراضات درج کرنے کی اجازت ہے۔ اس کے بعد ہی یہ طےکیا جائے گا کہ آڈٹ ہوگا یا نہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’جب تک آڈٹ نہیں ہوتا تب تک غریب عوام کی راحت رسانی کا فیصلہ کیا گیا کہ جو لوگ صفر سے 200 اور 201 سے 400 یونٹ تک بجلی خرچ کرتے ہیں ان کی بجلی کی قیمتیں نصف کر دی جائیں گی۔ ابھی تک اس طبقے کو قدرے رعایت دی جاتی تھی لیکن اب نصف سبسڈی دی جائے گی۔ جب آڈٹ ہو گا تب ہم یہ دیکھیں گے کہ رپورٹ کیا کہتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کے بعد سبسڈی کی ضرورت ہی نہیں ہو گی۔‘

اس فیصلے سے دہلی کے 34 لاکھ بجلی صارفین میں سے 28 لاکھ صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔

اس فیصلے سے سرکاری خزانے پر کل 200 کروڑ روپے کا بوجھ پڑےگا لیکن حقیقی بوجھ صرف 61 کروڑ روپے ہوگا۔ باقی رقم بجلی کمپنیاں مل کر ادا کریں گي کیونکہ ان پر ساڑھے چار ہزار کروڑ روپیہ واجب الادا ہے۔

واضح رہے کہ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیاں بجلی کمپنیوں کے آڈٹ کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بجلی کمپنیاں زبردست بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔

تاہم دہلی میں سرگرم تینوں بجلی کمپنیاں بی ایس ای ایس جمنا پاور لمیٹڈ، بی ایس ای ایس راجدھانی پاور لمیٹڈ اور ٹاٹا پاور دلّی ڈسٹریبیوٹر لمیٹڈ اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

جولائی میں دہلی بجلی ریگولیٹری کمیشن نے بھی تینوں کمپنیوں کے آڈٹ کی بات کی تھی۔

اسی بارے میں