خونی اینٹوں سے چنی جدید بھارت کی بنیادیں

Image caption ان بھٹوں پر عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد جبری مشقت پر مجبور ہے

بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد کے اردگرد سڑکوں کے ساتھ ساتھ قائم بڑی بڑی چمنیوں والے بھٹوں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔

ان بھٹوں کی آگ میں مٹی سے اینٹیں بنائی جاتی ہیں جن کی جدید بھارت کی تعمیر میں مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔

ان بھٹوں کی اردگرد کی فضا میں کوئلے کے ذرات گلے میں خراش ڈالنے لگتے ہیں۔

یہاں کام کرنے والے مرد اور عورتیں سروں پر اینٹیں اٹھائے ایک قطار میں بھٹوں پر چڑھتے اور اترتے قدیم مصر کا منظر پیش کرتے ہیں جیسے غلام کسی فرعون کے مقبرے کی تعمیر میں مشغول ہوں۔

ان بھٹہ مزدوروں کے سروں پر گیلی مٹی سے بنائی گئی اینٹوں کے بوجھ سے ان کا جسم دوہرا ہوا جاتا ہے لیکن انھیں یہ بوجھ صبح شام بھٹوں تک پہنچانا ہے۔

دوسری طرف پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس مزدور گھٹنوں گھٹنوں پانی میں مٹی اور سوکھی ہوئی گھاس ملانے کے کام میں سر جھکائے لگے رہتے ہیں۔

35 سالہ بھٹہ مزدور گوردا ماجی نے کہا کہ ’یہ بہت محنت طلب کام ہے، پانی میں کھڑے رہنا ہو یا سر پر اینٹوں کو اٹھا کر بھٹی تک لے جانا۔‘

’ہم ہر روز 15 ہزار اینٹیں بناتے ہیں اور ہمیں چھ ماہ بعد چھٹی ملتی ہے۔‘

بھٹے سے تھوڑے فاصلے پر عورتیں اور بچے کوئلے کے ڈھیر کے پاس بیٹھے ننگے ہاتھوں سے کوئلے توڑنے کا کام سر انجام دے رہے تھے۔

ان میں دو بچے جن کی عمر چار برس کی ہوگی اور جن کے چہرے اور ہاتھ پاؤں کوئلے کی گرد سے کالے ہو رہے تھے، اپنے ننھے ہاتھوں سے کوئلے کے ٹکڑے آپس میں ٹکرا کر توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے لیے کام کرنے والی خاتون اشلا کرشنا کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ غیر قانونی ہے: ’یہ کم سے کم اجرت کے قانون مجریہ 1948 کے خلاف ہے، جبری مشقت کے قانون مجریہ 1976 کے خلاف ہے، انٹر سٹیمٹ امیگرینٹ ورکرز مجریہ 1979 کے خلاف ہے اور چائلڈ لیبر، جنسی اور جسمانی استحصال کے قوانین کے خلاف ہے لیکن پھر بھی یہ روز مرہ کا معمول ہے۔‘

Image caption لوگ خاندانوں کی صورت میں مزدوری کرتے ہیں

یہ اینٹیں سرکاری اور نجی دفاتر، فیکٹریاں، کال سینٹرز، عالیشان گھر اور کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور ان عمارتوں میں کثیر القومی کمپنیوں کے دفاتر بنائے جاتے ہیں۔

کرشنا کا کہنا ہے کہ اینٹیں بنانے والی ایک بھی بھٹی ایسی نہیں ہے جہاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق مزدوروں سے کام لیا جاتا ہو یا جہاں حالات کار بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔

ہر سال سازگار موسم میں دسیوں ہزار مزدور گھرانے اڑیسہ سے بھٹہ مزدوری کرنے کے لیے آندھرا پردیش آتے ہیں۔

ان بھٹوں میں مزدوروں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کے بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں جیسے کہ حال ہی میں بھٹہ ٹھیکہ داروں کی طرف سے دو مزدوروں کے ہاتھ کاٹنے کا واقعہ بھی سامنے آیا۔

جن بھٹوں کا ہم نے دورہ کیا وہاں بدترین غربت کا شکار مزدور کام کر رہے تھے۔ ان میں بےشمار بچے بھی تھے جو ایک ایسے ماحول میں موجود تھے جہاں حفاظت کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔

ہر شخص ہر گھرانے کی کسمپرسی کی اپنی داستان تھی۔ کوئی دائمی بیماریوں کا شکار تھا اور کوئی تنخواہ نہ ملنے کی شکایت کرتا نظر آیا۔

کرشنا کا کہنا ہے کہ یہ لوگ 12 سے 18گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں اور ان میں حاملہ خواتین، بچے اور نو عمر لڑکیاں شامل ہیں: ’ان کو ناقص ترین خوراک اور گندے پانی پر گزارا کرنا پڑتا ہے ان کی زندگیاں غلاموں سے بدتر ہیں۔‘

کئی دہائیوں اور کئی نسلوں سے ان کی زندگیاں نہیں بدلیں۔ امدادی کام کرنے والوں کو کہنا ہے کہ اس بارے میں لوگ اب بےحس ہو گئے ہیں۔

سنہ 2011 میں میں اقوام متحدہ اور ادارہ برائے اقتصادی ترقی نے مشترکہ طور پر بھارت میں کام کرنے والی بین الاقوامی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے نئے رہنما اصول وضع کیے ہیں۔

ان کمپینوں کو اب براہِ راست اس بات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ’سپلائی چین‘ میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کہیں انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی۔

او ای سی ڈی کے قانونی مشیر ٹائلر گیلارڈ کا کہنا ہے کہ اس سے واقعی ہی فرق پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انسانی حقوق کی کوئی بھی مبینہ زیادتی جو پیدوار سے کسی طرح منسلک ہو جس میں بھٹوں میں بننے والی اینٹیں بھی شامل ہیں، سنگین مسئلہ ہیں۔‘

Image caption ان بھٹوں پر کام کرنے والے بچے کئی بیمایوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں

برطانیہ نے اس بارے میں قومی رابطہ مرکز بنایا ہے جہاں مبینہ زیادتیوں کی شکایت کی جا سکتی ہے اس کے علاوہ اس سال اس نے کمپنیز ایکٹ میں تبدیلی کی ہے جس میں یکم اکتوبر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو سالانہ رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔

ایتھیکل ٹریڈنگ کے پیٹر میکلیسٹر کا کہنا ہے: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے تمام ارکان اپنے کاروبار سے بلاواسطہ یا بالواسطہ منسلک کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے۔‘

مزدور تنظیموں کا ایک عالمی اتحاد بھی جلد بین الاقوامی سطح پر ایک مہم شروع کرنے والا ہے جس کا عنوان ہو گا ’بلڈ برکس‘ یا خونی اینٹیں جس میں بین الاقوامی کمپنیوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس طرح کے واقعات کا نوٹس لیں۔

ایک برطانوی اہلکار اینڈریو برڈی کا کہنا ہے کہ بھارت میں بھٹہ مزدوروں میں جبری مشقت اور بچوں مشقت کی لعنت وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سستی اینٹوں کا مطلب ہے سستی عمارت جس کی بنیاد جبری مشقت پر کھڑی ہو۔

بھارت کی حکومت کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں بھٹہ مزدوروں کو گھر، صاف پانی اور سکول فراہم کرنا ان کی ترجیحات میں ہے۔

لینر کمشنر حیدرآباد ڈاکٹر اے اشکو کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے بھارت میں مزدور مارکیٹ بہت ساز گار ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے ان بھٹہ مالکان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کہیں جبری مشقت نہیں لی جاتی اور کم سے کم اجرت ادا کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کہیں ان قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اس کا تدارک کیا جائے گا۔

انتہائی بدحالی میں مٹی کے کچے مکان میں ہمیں مدہری ملک ملی۔ پانچ سال کی یہ بچی جس کے جسم پر کپڑوں کے نام پر صرف ایک جانگیہ تھا۔ کرشنا نے بتایا کہ یہ بچی اڑیسہ سے اپنے والدین گروبل اور امر اور دو سالہ بھائی کے ہمراہ وہاں آ تھی۔

کرشنا جھک کر اس کی آنکھیں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں اس کو آنکھوں کی سوزش غالباً کوئلے اور دھوئیں کی وجہ سے ہےِ۔ اس میں خون کی بھی کمی ہے اور پانی کی وجہ سے اس کا پیٹ خراب ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ حکومتیں اور حقوقِ انسانی کے کارکن کیا کہتے ہیں، نئے تجارتی اصولوں کے تحت ہر کمپنی کو زمینی حقائق کے بارے میں تصدیق کرنا ضروری ہے۔

اور اگر انھیں اس دوران مدہری جیسے لوگ ملتے ہیں تو انھیں ان کی مدد کرنے کے لیے آگے آنا ہی ہوگا۔

اسی بارے میں