’شادی سے قبل سیکس غیر اخلاقی، غیر مذہبی‘

Image caption بھارت میں شادی سے قبل جنسی تعلقات کو تہذیبی طور پر برا سمجھا جاتا ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک عدالت نے شادی سے قبل جنسی تعلقات کو ’غیر اخلاقی‘ اور ’تمام مذاہب کے اصولوں کے منافی‘ قرار دیا ہے۔

جج ویریندر بھٹ نے یہ باتیں دو لوگوں کے درمیان شادی کے وعدے کے تحت کیے جانے والے سیکس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ دو بالغوں کے درمیان شادی کے وعدے کے تحت قائم کیے جانے والے تمام جنسی تعلقات ریپ کے زمرے میں نہیں آتے۔

واضح رہے کہ بھارت میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنا تہذیبی نقطۂ نظر سے معیوب سمجھا جاتا ہے۔

گذشتہ سال دہلی کی ہی ایک عدالت نے بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنے یعنی لیو ان ریلیشنز کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ’مغربی تہذیب کا بدنام پروڈکٹ‘ ہے۔

جج مسٹر بھٹ خواتین کے خلاف جنسی خلاف ورزیوں کے معاملات کی فاسٹ ٹریک عدالت کی صدارت کر رہے ہیں تاکہ ان معاملات کو جلد سے جلد نمٹایا جا سکے۔

انھوں نے یہ باتیں ایسے معاملات پر فیصلہ سنانے کے دوران کی جس میں ایک خاتون نے ایک کثیر ملکی کمپنی میں ملازم ایک شخص پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔

29 سالہ اس شخص پر ایک دوسری کمپنی میں کام کرنے والی ایک خاتون نے سنہ 2011 میں الزام لگایا تھا کہ اس نے ان کا ریپ کیا ہے اور اس کی شکایت پر اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

خاتون نے شکایت کی تھی کہ اس شخص نے شادی کا وعدہ کر کے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔

اس شکایت پر فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جج بھٹ نے کہا: ’میرے خیال میں شادی کے وعدے کے تحت دو بالغوں کے درمیان قائم کیے جانے والے تمام جنسی تعلقات ریپ نہیں ہوتے، چاہے بعد میں لڑکا اپنا وعدہ پورے نہیں کر پاتا۔

’اگر کوئی پڑھی لکھی، بالغ اور دفتر میں کام کرنے والی خاتون اپنے کسی ساتھی یا دوست کے ساتھ شادی کے وعدے کے تحت جنسی تعلق قائم کرتی ہے تو یہ اس کی اپنی ایما پر ہے۔ اسے یہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ اس کے لیے خود ذمہ دار ہے کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ لڑکا اپنا وعدہ پورا ہی کرے گا۔‘

جج نے مزید کہا: ’وہ اپنا وعدہ پورا کر سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن خاتون کو یہ باور ہونا چاہیے کہ وہ جس جنسی عمل میں شامل ہو رہی ہے وہ غیر اخلاقی ہے اور دنیا کے تمام مذاہب کے اصولوں کے منافی ہے کیونکہ دنیا کا کوئی مذہب شادی سے پہلے سیکس کی اجازت نہیں دیتا۔‘

یاد رہے کہ سنہ 2010 میں بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک تمل اداکارہ کے خلاف کئی معاملات کو خارج کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ اداکارہ خوشبو نے خواتین کو شادی سے پہلے سیکس کرنے کی اجازت کی بات کہی تھی۔

اداکارہ خوشبو پر ’عوام کی غیرت کو ٹھیس پہنچانے‘ کے لیے سنہ 2005 میں 22 معاملات درج کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں