ایک محل ہو سپنوں کا، ایک گاڑی بھی!

اروند کیجریوال کے نام کھلا خط

Image caption دہلی کے نئے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے سرکاری رہائش گاہ لینے سے انکار کیا ہے

محترم کیجریوال صاحب،

بہت شکریہ کہ آپ نے بجلی سستی اور پانی مفت کردیا۔ ہوا، آلودہ ہی سہی، پچھلی سرکار نے فری کر دی تھی۔ اب بس سورج کی روشنی بچتی ہے، کہرا کچھ کم ہو تو اس کے بارے میں بھی سوچیے گا!

میں یہ خط آپ کو ڈاک سے بھی بھیج سکتا تھا لیکن ڈاک میں پیسے خرچ ہوتے ہیں اور جب سے آپ حکومت میں آئے ہیں، آپ کی قربانیوں کو دیکھ کر بس یوں ہی پیسے ضائع کرنے کا دل نہیں کرتا۔

مجھے احساس ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد سے آپ کو کچھ غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے بھی کچھ سوال ہیں جن کا جواب آپ کے پاس بھی نہیں ہے! مثال کے طور پر یہ کہ ایک عام آدمی کا گھر کتنا بڑا اور اس کی گاڑی کتنی چھوٹی ہونی چاہیے؟

آپ نے وسطی دلی میں وزیر اعلی کا سرکاری بنگلہ لینے سے انکار تو آپ کی سادگی کی تعریف ہوئی، پھر آپ پانچ پانچ کمروں کے دوگھر لینے پر تیار ہوگئے تو کچھ لوگوں کو لگا کہ دس کمرے اور دو بڑے لان ملا دیے جائیں تو بنگلے میں کیا کمی رہ گئی؟ لیکن آپ نے کہا کہ یہ گھر سابق وزیر اعلی شیلا دکشت کی کوٹھی سے پھر بھی چھوٹا ہے۔ اعتراض جاری رہا تو آپ نےشاید اپنی اور پارٹی کے ’امیج‘ کو نقصان سے بچانے کے لیے یہ گھر لینے سے بھی انکار کردیا۔

اب آپ کے حکم پر اس سے بھی چھوٹے گھر کی تلاش شروع ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ گھر کتنا چھوٹا ہو؟ آپ جس بھی گھر میں جائیں گے وہ شیلا دکشت کی کوٹھی سے چھوٹا ہی ہوگا اور آپ کے موجودہ فلیٹ سے بڑا!

اور فرض کیجیے کہ آپ کے نئے گھر پر بھی اعتراض ہوا تو آپ کیا کریں گے؟ گھر کا انتخاب بھی عوامی ریفرینڈم اور میڈیا کی رائے سے کیا جائے یہ کوئی زیادہ سمجھداری کی بات نہیں۔ اگر آپ اپنا ارادہ بدلیں تو شیلا دکشت کی کوٹھی اب بھی خالی ہے!

Image caption کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے اب پارلیمانی الیکشن میں بھی حصہ لینے کا اعلان کیا ہے

اور جب آپ اپنے گھر کے بارے میں فیصلہ کرلیں تو گاڑی کے بارے میں بھی ضرور سوچیے گا!

جس دن اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ تھا تو آپ کے کچھ لیڈر آٹو رکشا سے آئے اور کچھ میٹرو ٹرین سے۔ آپ خود میٹرو سے آئے اور اب بھی آفس آنے کے لیے اپنی چھوٹی سی کھٹارا گاڑی استعمال کر رہے ہیں حالانکہ آپکے وزرا نے اب سرکاری گاڑیاں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ میری مانیں تو اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔

لیکن یہ غلط ہے کہ جب آپ کے وزرا سے پوچھا گیا کہ وہ سرکاری گاڑی استعمال کرنے کے لیے کیوں تیار ہوگئے تو ایک نے جواب دیا کہ صبح میں انہوں نے اپنا اے ٹی ایم کارڈ اپنی بیوی کو دیدیا تھا اور ان کی گاڑی میں اتنا بھی پیٹرول نہیں تھا کہ دفتر آ سکتے جبکہ آپ کے نمبر ٹو وزیر نے کہا کہ ان کی گاڑی خراب ہوگئی تھی!

ہمیں تو حکمرانی کا کوئی تجربہ نہیں لیکن لگتا نہیں کہ کوئی آپ سے یہ توقع کرتا ہوگا کہ آپ میٹرو یا بس کی لائن میں کھڑے رہیں، اور حکمران جو کچھ بھی کام کرتے ہیں وہ آپ کے دفتر پہنچنے کے انتظار میں رکے رہیں!

آپ بے شک نئی گاڑیاں مت خریدیے لیکن حکومت کے پاس پہلے سے جو گاڑیاں موجود ہیں سرکاری کاموں کے لیے انہیں استعمال کرنے میں کیا شرم ہے؟ ذرا سوچیے کہ آپ کو چین کے وزیراعظم سے ملنا ہو، آپ دیر سے پہنچیں اور کہیں کہ’معاف کیجیے گا گاڑی میں پنکچر لگوانے کے لیے رک گیا تھا، ٹائر بہت پرانے ہوگئے ہیں!’

آپ نے اپنی کھٹارا گاڑی میں سفر کر کے دہلی کا الیکشن جیت لیا، اب کچھ مہینوں کے لیے اسے سنبھال کر رکھیے، پارلیمنٹ کے الیکشن میں کام آئے گی!

فقط

آپ کا خیر خواہ

اسی بارے میں