ہاتھی کی موت پر امریکی ڈاکٹر کا سوگ

Image caption جوئے راج نے قاضی رنگا میں 65 سال تک کا کیا اور اسے سنہ 2008 میں ریٹائر کر دیا گیا تھا

امریکہ میں جانوروں کے حقوق سے متعلق ایک کارکن بھارت میں 73 سالہ ہاتھی کی موت کا سوگ منانے والوں میں شامل ہو گئي ہیں۔

اس طویل قامت ہاتھی کی رواں ہفتے موت ہو گئی تی اور بھارت میں جانوروں کے چاہنے والے اس کی موت کا سوگ منا رہے ہیں۔

جوئےراج نامی اس ہاتھی کا قد 3.35 میٹر تھا اور وہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے قاضی رنگا نیشنل پارک میں رہتا اور کام کرتا تھا۔

پارک کی انتظامیہ نے کہا کہ دوسرے ہاتھیوں نے بھی جوئے راج کی موت کا سوگ منایا۔

امریکہ میں مقیم ایلک رائسٹرر نے بی بی سی کو بتایا ’اس بڑے بھورے جسم میں ایک عظیم روح تھی۔ مجھے اس سے بہت لگاؤ تھا اور میں اس کی موت کا سوگ منا رہی ہوں‘۔

قاضی رنگا پارک آسام کے دارالحکومت گوہاٹی سے 220 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

جوئے راج کے مہاوت موہن کامارکر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’وہ کئی دہائیوں سے قاضی رنگا کا پسندیدہ جانور تھا اور جب (بدھ کی) صبح اس کی موت ہوئی تو میں اپنے آنسو نہ روک سکا۔‘

کرماکر نے کہا ’اس کے پاس بہت سے دوسرے ہاتھی چنگھاڑ رہے تھے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور سر جھکے ہوئے تھے۔ یہ منظر قابل دید لیکن بیان سے باہر ہے۔‘

جوئے راج نے قاضی رنگا میں 65 سال تک کام کیا اور اسے سنہ 2008 میں ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ اس کا اہم کام سیاحوں کو جنگل کی سیر کرانا اور دوسرے جانوروں بطور خاص گینڈوں کو دیکھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

کرماکر نے کہا ’وہ دوسرے نر ہاتھیوں کے درمیان صلح کرانے میں ہماری مدد کیا کرتا تھا اور اس کا استعمال جانوروں کے شکار کی روک تھام کے متعدد آپریشن میں بھی کیا گیا۔‘

ایلک رائسٹرر جو جانوروں کی ڈاکٹر بھی ہیں کی جوئے راج سے ان کی ملاقات سنہ 2008 میں ہوئي تھی جب اسے جلد کی بیماری، جزوی نا بینائی اور دوسرے فنگل انفیکشن کی تشخیص ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا ’قاضی رنگا میں سدھائے ہوئے ہاتھیوں کی حالت ملک میں ان ہاتھیوں سے بہتر ہے جو تقاریب، شادیوں اور سالگرہ کے مواقع پر استعمال کیے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ تفریح کا سامان بہم پہنچانے کے اس عمل سے اس عجیب مخلوق کی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’خوشی کی بات ہے کہ جوئے راج کو پوری زندگی ملی اور وہ بڑھاپے کو پہنچا۔ اس کے پاس خوبصورت اور لمبے دانت تھے اور وہ خوش قسمت تھا کہ کسی نے انھیں نقصان نہیں پہنچایا۔

’جوئےراج سے ملنا اور اس کا علاج کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے۔ اس میں بڑے بوڑھوں کی سی سمجھداری تھی۔‘

اسی بارے میں