بھارت پولیو سے پاک مگر رسمی اعلان باقی

Image caption بھارت میں سنہ 2011 میں پولیو کا آخری کیس سامنے آیا تھا جبکہ سنہ 2009 میں یہ تعداد 741 تھی

بھارت میں پولیو کا آخری مریض تین سال قبل رپورٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک اس مرض کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

اسے صحت کے شعبے میں بھارت کی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے یہ کامیابی بڑے پیمانے پر مسلسل حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے ذریعے حاصل کی ہے۔

بھارت میں سنہ 2011 میں پولیو کا صرف ایک کیس سامنے آیا تھا جبکہ سنہ 2009 میں یہ تعداد 741 تھی۔

گذشتہ سال عالمی ادارۂ صحت نے بھارت کو ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا تھا جہاں پولیو کا اثر ہے۔

پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں اب بھی پولیو موجود ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس ایک سے دوسرے میں منتقل ہو رہا ہے اور اب تک وہاں پولیو کے پھیلاؤ کو روکا نہیں جا سکا۔

اطلاعات کے مطابق اگرچہ حکومت ہند پیر کے روز ملک کو پوليوسے پاک ملک کا اعلان کر دے گی تاہم عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او جانچ کے بعد بھارت کے اس اعلان پر 11 فروری کو ہی مہر لگائے گا۔

عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی مہم کے ایک بیان میں کہا کیا ہے کہ ’بھارت 13 جنوری کو پولیو کو جڑ سے ختم کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھا لے گا۔‘

Image caption ماضی میں پولیو سے ہر سال ساڑھے تین لاکھ لوگ معذور ہو جاتے تھے

بھارت میں یونیسیف کے سربراہ نے اسے ’سنگِ میل‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا: ’پولیو میں کامیابی سے حوصلہ پا کر بھارت نے اب شہری صحت کے شعبے میں نئے اہداف طے کیے ہیں۔‘

ایک زمانہ وہ تھا جب بھارت ان ممالک میں شامل تھا جہاں پولیو کو جڑ سے ختم کرنا انتہائی مشکل کام تصور کیا جاتا تھا تاہم اب تین سال سے ملک میں پولیو کا کوئی نیا کیس درج نہیں ہوا۔

بھارت نے سنہ 1970 کی دہائی میں چیچک کو جڑ سے ختم کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا، اس کے بعد پولیو دوسری ایسی بیماری ہے جسے ویکسینیشن کے ذریعہ مٹایا گیا ہے۔

بھارت میں پولیو ویکسینیشن کے ہر دور میں 24 لاکھ سے زیادہ رضاکار 17 کروڑ سے زیادہ بچوں کو پولیو کی ویکسین پلاتے ہیں۔

پولیو کی وجہ سے معذوری یا موت بھی ہو سکتی ہے۔ ماضی میں اس بیماری نے کئی ملکوں کو اپنا شکار بنایا اور یہ سنہ 1980 کی دہائی تک 100 سے زیادہ ممالک میں پائي جاتی تھی اور جس سے ہر سال ساڑھے تین لاکھ لوگ معذور ہو جاتے تھے۔

اسی بارے میں