دہلی: ڈنمارک کی سیاح کا ریپ، دو گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریپ کا یہ بہیمانہ واقعہ مبینہ طور پر دہلی کے قلب میں رونما ہوا

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے غیرملکی خاتون سیاح سے جنسی زیادتی کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ریپ کا یہ واقعہ دہلی کا قلب تصور کیے جانے والے علاقے کناٹ پلیس میں منگل کی شام پیش آیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ڈنمارک کی 51 سالہ سیاح راستہ بھٹک گئیں تھیں اور انھوں نے بعض افراد سے مدد مانگی تھی جنھوں نے ان سے جنسی زیادتی کی۔

دہلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ پہاڑ گنج میں ایک ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ رات دیر گئے وہ ہوٹل لوٹ رہی تھیں کہ راستہ بھٹک گئیں۔ پہلے تو کچھ لوگوں نے انھیں لوٹا اور پھر ان کا ریپ ہوا۔ جب وہ ہوٹل پہنچیں تو انھوں نے مینیجر کو بتایا اور پھر پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد کارروائی شروع کر دی ہے۔‘

پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد میں ایک 25 سالہ مہندر عرف گانجا ہے جبکہ دوسرے شخص کا نام بادشاہ بتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کے پاس سے مبینہ طور پر خاتون کا آئی پیڈ، موبائل فون اور عینک رکھنے کا کیس بھی برآمد ہوا ہے۔

دہلی پولیس کے سپیشل کمشنر دیپک مشرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان گرفتاريوں کی تصدیق کی لیکن زیرِ تفتیش باقی لوگوں کے بارے میں معلومات دینے سے انکار کر دیا۔

دیپک مشرا نے کہا، ’دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے میں آٹھ لوگ شامل تھے لیکن یہ لوگ کون ہیں اور کہاں ہیں، اس کے بارے میں ابھی معلومات نہیں دینا چاہتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہلی پولیس اس بابت تفتیش کر رہی ہے اور بعض لوگوں کو حراست میں بھی لیا گيا ہے

انہوں نے کہا کہ باقی ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس’مناسب‘ قدم اٹھا رہی ہے۔

متاثرہ خاتون گذشتہ ایک ہفتے سے بھارت میں مقیم تھیں۔ وہ دہلی سے تقریبا 200 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع معروف شہر آگرہ گئی تھیں جہاں سے وہ منگل کو ہی نئی دہلی پہنچی تھیں۔

اگرچہ دہلی میں موجود ڈنمارک کے سفارت خانے نے اس معاملے میں ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے بتایا کہ متاثرہ خاتون اب ملک میں نہیں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ اب بھارت میں نہیں ہیں۔ ان کی فلائٹ پہلے سے ہی طے تھی اور مقررہ وقت پر آج (بدھ) کو وہ ملک سے باہر چلی گئی ہیں۔‘

اس سے پہلے کچھ دنوں قبل دارالحکومت ہی میں پولینڈ کی ایک خاتون کے ساتھ ٹیکسی ڈرائیور کے ہاتھوں ریپ کا معاملہ پیش آیا تھا۔

گذشتہ ماہ بھارت میں 16 دسمبر 2012 میں چلتی ہوئی ایک بس میں اجتماعی ریپ کے واقعے کا ایک سال پورا ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اس حادثے کے بعد ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کا مسئلہ زور شور سے اٹھایا گیا تھا اور اس کے خلاف سخت قوانین وضع کیے گئے تھے۔

لیکن ان سب کے باوجود اس دوران غیر ملکی خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں اور ریپ کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں جولائی کے مہینے میں ایک امریکی سیاح کے ساتھ اجتماعی ریپ کے معاملے میں گذشتہ ماہ ایک مقامی عدالت نے نیپال کے تین باشندوں کو 20-20 سال کی سزا سنائی تھی۔

دوسری جانب گذشتہ جولائی میں مدھیہ پردیش کی ایک عدالت نے سوئٹزرلینڈ کی ایک 39 سالہ خاتون کے ساتھ ریپ کے معاملے میں چھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اسی بارے میں