دہلی: سنندا کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سنندا پشکر سنیچر کی رات دلی کے ایک ہوٹل میں مردہ پائی گئی تھیں

بھارت میں وفاقی وزیر ششی تھرور کی اہلیہ کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے مجسٹریٹ نے پولیس کو مزید چھان بین کرنے اور یہ پتہ لگانے کی ہدایت کی ہے کہ یہ خودکشی کا کیس ہے یا قتل کا۔

آل انڈیا انٹسی ٹیوٹ آف میڈکل سائنسز نے سنندا پشکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سربمہر لفافے میں مجسٹریٹ الوک شرما کو پیش کی ہیں جس کی تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی گئیں۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سنندا پشکر کے گھر والوں میں سے کسی نے اس بات کا شبہ ظاہر نہیں کیا ہے کہ یہ قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سنندا کی موت اچانک اور غیر فطری تھی اور یہ کہ انھوں نے ڈپریشن کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ایک دوا کافی زیادہ مقدار میں کھائی تھی۔

تاہم ڈاکٹروں کے مطابق ان کے لیے یہ بتانا ممکن نہیں کہ یہ دوائی سنندا نے اپنی مرضی سے کھائی تھی یا انھیں کسی نے ان کی مرضی کے خلاف یا دھوکے سے دوا دی تھی۔

سنندا پشکر سنیچر کی رات دلی کے ایک ہوٹل میں مردہ پائی گئی تھیں۔ اپنی موت سے قبل وہ ایک ذاتی تنازع میں گھری ہوئی تھیں کیونکہ انھوں نے اپنے شوہر پر ایک پاکستانی صحافی سے تعلق کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ طلاق لینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ششی تھرور نے سنندا کی موت کی تفتیش کی درخواست کی تھی

پاکستانی صحافی نے اس الزام سے انکار کیا تھا اور بعد میں تھرور اور سنندا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ان کی شادی شدہ زندگی خوشگوار ہے اور ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہوجانے کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ غلط خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔

اس بیان کے چند ہی گھنٹے بعد سنندا کی موت کی خبر سامنے آئی تھی۔

اخبارات میں ششی تھرور اور سنندا کی ازدواجی زندگی اور آپس میں تعلقات کی توعیت کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیوں کے بعد ششی نے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کو خط لکھ کر یہ درخواست کی تھی کہ وہ موت کی تفتیش جلد از جلد مکمل کرائیں۔

جس وقت سنندا پشکر کی موت ہوئی، ششی تھرور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے لیکن اخبارات کے مطابق ان کی ازدواجی زندگی کئی مہینوں سے مشکلات کا شکار تھی۔

سنندا پشکر کے جسم پر کچھ خراشوں کے نشان بھی ملے تھے لیکن ڈاکٹروں کے مطابق ان کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ وہ جان لیوا ثابت ہوں۔

سنندا پشکر اور ششی تھرور نے 2010 میں شادی کی تھی اور بھارتی قوانین کے تحت شادی کے سات سال کے اندر بیوی کی ہلاکت پر مجسٹریٹ سے انکوائری کرانا لازمی ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انسانی وسائل کے وزیر ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی آخری رسومات ادا کی دی گئی ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سنندا پشکر کی آخری رسومات لودھی روڑ پر واقع چتا جلانے والے ایک مرکز میں ادا کی گئیں۔

اس موقع پر سنندا پشکر کے شوہر ششی تھرور، ان کے عزیزوں اور دوستوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے تھے۔

سنندا پشکر کی آخری رسومات: تصاویر

ایک داستانِ محبت کا خاتمہ: تصاویر

اس سے پہلے دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) کے ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ سنندا پشکر کی موت اچانک اور غیر فطری ہے۔

پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سدھیر گپتا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’سنندا پشکر کی موت اچانک اور غیر فطری تھی۔ ان کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے‘ تاہم انھوں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سینے میں تکلیف کے سبب ششی تھرور کو ایمس ہسپتال میں داخل کیا گيا ہے

انھوں نے کہا کہ ’کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ڈاکٹروں کو مزید طبی جانچ کرنی ہے اور ان کے جسم سے لیے گئے کئی نمونے لیب روانہ کیے گئے ہیں جس کے بعد ہی کوئی حتمی بات کہی جا سکتی ہے۔‘

دوسری جانب ششی تھرور اپنی بیوی سنندا پشکر کی موت کے بعد دلی کےمعروف ہسپتال ایمس سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔ وہ رات دیر گئے سینے میں تکلیف کے باعث وہاں علاج کے لیے داخل کرائے گئے تھے۔

ایمس کے ترجمان ڈاکٹر امت گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ششی تھرور کو سنیچر کی صبح ساڑھے تین اور چار بجے کے درمیان سینے میں تکلیف کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ انھیں ’دل کی دھڑکن‘ بڑھنے کی وجہ سے ہسپتال لایا گیا تھا۔ ڈاکٹر گپتا کے مطابق اب ان کی حالت مستحکم ہے۔

مرکزی وزیر ششی تھرور کی بیوی سنندا پشکر کی موت کے بعد دلی پولیس ہوٹل کے ملازمین سے پوچھ گچھ میں لگی ہے۔

ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر جمعہ کو دلی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں مردہ پائی گئی ہیں۔ ان کی عمر باون سال تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

پولیس نے اس واقعے کے بعد ہوٹل کے کمرے کو سیل کر دیا تھا۔ سنندا کی لاش کا پوسٹ مارٹم آج سنيچر کو ہوگا اس کے بعد ہی ان کی موت کی وجہ پر کوئی روشنی پڑ سکتی ہے۔

پولیس کو شبہہ ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سنندا پشکر کی لاش ہوٹل لیلا کے کمرہ نمبر 345 میں ملی۔

دلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے بی بی سی سے بات چیت میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ششی تھرور کے سیکریٹری کے مطابق سنندا کی لاش جمعے کی رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے اس وقت ملی جب ششی تھرور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد ہوٹل واپس آئے۔

سیکریٹری کے مطابق ان کے کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا اور ہوٹل کے عملے کو دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا۔

بھارتی میڈیا میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ انھوں نے خودکشی کی ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ موت کے وقت اور وجہ کے بارے میں پوسٹ مارٹم کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔

پولیس نے ہوٹل کے اس کمرے کو سیل کر دیا ہے اور مجسٹریٹ بھی موقع پر پہنچ گئے۔

ششی تھرور نے سنندا پشکر سے سنہ 2010 میں شادی کی تھی۔ گذشتہ دو تین دن سے وہ ایک تنازع میں گھری ہوئی تھیں کیونکہ انھہوں نے اپنے شوہر اور ایک پاکستانی خاتون کالم نگار پر پہلے یہ الزام لگایا تھا کہ ان کا آپس میں تعلق ہے اور اخبارات سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ششی تھرور سے طلاق لینے والی ہیں۔

لیکن ٹوئٹر پر ان پیغامات کے بارے میں ششی تھرور نے کہا تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا اور وہ جلد ہی اس مسئلے کو حل کر کے اکاؤنٹ بحال کریں گے۔

پاکستانی صحافی نے بھارتی ٹی وی چینلوں سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا لیکن دونوں کے درمیان لفظوں کی جنگ اور الزام تراشی کا سلسلہ تقریباً چھتیس گھنٹے تک ٹی وی چینلوں پر چھایا رہا۔

جمعرات کو ششی تھرور اور سنندا پشکر نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے کہا تھا کہ ان کی شادی شدہ زندگی بہت خوشگوار ہے اور رہے گی۔

پاکستانی کالم نگار نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا ہے کہ وہ اس واقعہ سے صدمے میں ہیں: ’میں کافی صدمے میں ہوں۔ یہ کافی افسوسناک ہے۔ میں نہیں جانتی کہ مجھے کیا کہنا چاہیے۔ ریسٹ ان پیس سنندا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ششی تھرور نے سنندا پشکر سے دو ہزار دس میں شادی کی تھی

ششی تھرور کے بیٹے يشان تھرور نے بھی ٹوئٹر پر لوگوں سے اپنے خاندان کی پرائیویسی کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔

سنندا پشکر پہلی مرتبہ دو ہزار نو میں سرخیوں میں آئی تھیں جب انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے نئی ٹیموں کو لائسنس جاری کیے جا رہے تھے۔

اس وقت یہ الزام سامنے آیا تھا کہ ایک ٹیم کو فرینچائز دلوانے کے لیے انھوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا اور اس کے عوض انہیں اس ٹیم میں حصہ دیا گیا تھا۔

اس تنازع کی وجہ سے ششی تھرور کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ وہ اس وقت خارجہ امور کے وزیر مملکت تھے۔ بعد میں ششی تھرور نے سنندا پشکر سے شادی کر لی تھی۔

سنندا پشکر کے قریبی دوست اور سینیئر صحافی ویرسنگھوی نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ وہ کافی دنوں سے ڈپریشن کا شکار تھیں۔

ششی تھرور نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور اب وہ آرام کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

وزیر کے سیکریٹری کے مطابق مسٹر تھرور اور سنندا پشکر کل سے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے کیونکہ ان کے سرکای گھر میں کچھ کام چل رہا تھا۔

دلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے کہا ہے کہ چونکہ سنندا کی شادی کو ابھی سات سال نہیں ہوئِے ہیں لہذا ان کی موت کی مجسٹریٹ سے انکوائری کرائی جائِے گی۔

اسی بارے میں