وزیر قانون کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سومناتھ بھارتی کا الزام تھا کہ دہلی کے ایک علاقے میں افریقی ممالک کے کچھ باشندے جسم فروشی اور منشیات کا دھندا کرتے ہیں

دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے پانچ پولیس اہل کاروں کو معطل کرانے کے لیے اپنا دھرنا تو ختم کردیا ہے لیکن اب ان پر اپنے وزیر قانون سومناتھ بھارتی کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

منگل کی شام دلی کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) نجیب جنگ کی اس پیش کش کے بعد کہ وہ دو پولیس اہل کاروں کو انکوائری مکمل ہونے تک چھٹی پر بھیجنے کے لیے تیار ہیں، کیجریوال نے تقریباً 30 گھنٹے سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

دلی پولیس کو اروند کیجریوال کا چیلنج

کیجریوال نے ایل جی کی پیش کش کو ’عام آدمی‘ کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جن مطالبات کو منوانے کے لیے وہ دھرنے پر بیٹھے تھے ان میں سے کسی کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

یہ تنازع دلی حکومت کے دو وزرا اور کچھ پولیس افسران کے درمیان ہونے والے الگ الگ واقعات کے بعد شروع ہوا تھا اور جب وفاقی حکومت نے ان افسران کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تو کیجریوال وسطی دلی میں پارلیمان کے قریب دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دلی پولیس وفاقی حکومت کے تحت کام کرتی ہے۔

تنازعے کے مرکزی کردار وزیر قانون سومناتھ بھارتی ہیں جو دلی کے ایک علاقے میں منشیات اور جسم فروشی کا میبنہ ریکٹ چلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ لیکن پولیس افسران کا کہنا تھا کہ رات میں بغیر کسی ثبوت اور بغیر عدالتی وارنٹ وہ زبردستی کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی قانون دن ڈھلنے کے بعد کسی خاتون سے پوچھ گچھ کی اجازت دیتا ہے۔

سومناتھ بھارتی کا الزام تھا کہ اس علاقے میں افریقی ممالک کے کچھ باشندے جسم فروشی اور منشیات کا دھندا کرتے ہیں۔ وزیر پر افریقی باشندوں کے خلاف نسلی تعصب کا بھی الزام ہے اور اس علاقے میں رہنے والی یوگانڈا کی ایک خاتون نے اس پورے معاملے پر میجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔

ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرکردہ تنظیموں نے مسٹر کیجریوال کے نام ایک خط میں ’سومناتھ بھارتی کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دھرنا ختم کرانے کے لیے چھٹی پر بھیجے جانے والے تھانیدار نے (بھارتی کا حکم نہ مان کر) ’افریقی خواتین کا تحفظ کیا تھا۔۔۔ ایسے افسر کے خلاف کارروائی کرنے سے خواتین کے حقوق کے مقصد کو زک پہنچے گی۔‘

ان الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد دلی میں خواتین کے کمیشن نے بھی سومناتھ بھارتی کو طلب کیا ہے اور کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو پولیس کی مدد لی جائے گی۔ کمیشن کے مطابق یوگانڈا کی پانچ خواتین نے اس سے اپنےساتھ کی جانے والی مبینہ بدسلوکی کی شکایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اروند کیجریوال کو پھیپھڑوں میں انفیکشن، کھانسی اور بخار کی شکایت کے بعد بدھ کی صبح ہسپتال لے جایا گیا

اروند کیجریوال کو پھیپھڑوں میں انفیکشن، کھانسی اور بخار کی شکایت کے بعد بدھ کی صبح ہسپتال لے جایا گیا جہاں فی الحال ان کے کچھ ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

کیجریوال اب تک سومناتھ بھارتی کا دفاع کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ جب تک دلی پولیس کو ریاستی حکومت کے کنٹرول میں نہیں دیا جائے گا، شہر میں امن و قانون کی صورتِ حال بہتر نہیں ہوسکتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دھرنا ختم کرنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ عام آدمی پارٹی کی حکمت عملی پر سخت تنقید ہو رہی تھی اور عام تاثر یہ ہے کہ اگر خود وزیر اعلیٰ یا ان کے وزیر اس انداز میں قانون توڑیں گے تو دوسروں کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔

پارٹی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر انکوائری مکمل ہونے سے پہلے وہ پولیس افسران کی معطلی یا تبادلے کا مطالبہ کر رہی تھی تو یہی پیمانہ اسے سومناتھ بھارتی کے لیے بھی استعمال کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں