عام آدمی پارٹی کو عدالتی چیلنج کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عام آدمی پارٹی کی دہلی حکومت نے سرکاری امور بھی دھرنے کے دوران سڑک سے ہی انجام دیے

بھارت کی سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے دریافت کیا ہے کہ جب دفعہ ایک سو چوالیس نافذ تھی تو وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال اور ان کے ساتھیوں کو دھرنے پر کیوں بیٹھنے دیا گیا۔

عدالت نے وفاقی اور دہلی کی حکومتوں سے بھی یہ جواب طلب کیا ہے کہ کیا آئینی عہدوں پر فائز لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج کرسکتے ہیں؟ انہیں جواب دینے کے لیے چھ ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔

عرضی گزار ایم ایل شرما نے عدالت کے سامنے اپنی پٹیشن میں سوال اٹھایا تھا کہ ’کیا وزیر اعلیٰ اور وزیر دہرا کردار یا ’ڈبل رول‘ ادا کرسکتے ہیں؟ یعنی آئینی عہدے پر بھی فائز رہیں اور سڑکوں پر احتجاج بھی کریں۔۔۔‘

عام آدمی پارٹی کی حکومت نے جب سے دلی پولیس کو نشانہ بنایا ہے، اس کی مشکلات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔

لیکن جمعہ کو پارٹی کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی جس میں پولیس والے ایک نوجوان کو پیٹتے ہوئے اور اس سے پیسے چھینتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر تینوں پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا۔

پولیس نے بھی مسٹر کیجری وال کے دھرنے کے سلسلے میں مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے لیکن مسٹر کیجری وال کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

لیکن پارٹی کا درد سر آسانی سے ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پارٹی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیر قانون سوم ناتھ بھارتی نے دلی کے ایک علاقے میں پولیس پر یہ دباؤ ڈالا تھا کہ وہ مبینہ طور پر منشیات اور جسم فروشی کا دھندا کرنے والے افریقی باشندوں کے خلاف آدھی رات کو کارروائی کرے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ وہ وارنٹ کے بغیر کچھ نہیں کرسکتی۔ اس واقعہ کی ویڈیو مسلسل ٹی وی چینلوں پر دکھائی جا رہی ہیں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے مسٹر بھارتی پر عورتوں کو ہراساں کرنے اور نسلی تعصب کا الزام بھی لگایا ہے۔

افریقی عورتوں نے دلی میں خواتین کے کمیشن سے شکایت کی ہے جس نے مسٹر بھارتی کو آج طلب کیا تھا۔ لیکن مسٹر بھارتی خود پیش نہیں ہوئے اور کمیشن نے ان کے وکلا سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

کمیشن کی سربراہ برکھا سنگھ نے کہا کہ مسٹر بھارتی کو خود اس کے سامنے پیش ہوکر اپنا موقف بیان کرنا ہوگا۔

عام آدمی پارٹی نے جعمرات کو اعلان کیا تھا کہ لیفٹننٹ گورنر کی قائم کردہ عدالتی انکوائری کے ختم ہونے تک مسٹر سومناتھ بھارتی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

اگرچہ اس تنازع سے پارٹی کے امیج کو بہت نقصان ہو رہا ہے لیکن اس کے سامنے بھی راستے محدود ہیں کیونکہ پارٹی اگر یہ مان لیتی ہے کہ مسٹر بھارتی نےغلطی کی تھی تو پھر اس کے لیے پارلیمان کے قریب وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کے دھرنے کا جواز پیش کرنا مشکل ہو جائے گا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک وفد نے بھی آج لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کرکے کہا کہ ’وزیر قانون خود قانون توڑ رہے ہیں، لہذا انہیں برخاست کیا جائے۔‘

خود مسٹر بھارتی نے اس تنازع پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ لیکن دلی میں اس کی حکومت کی حمایت کرنے والی کانگریس پارٹی کا بھی کہنا ہے کہ اپنے عہدے پر قائم رہنے کا مسٹر بھارتی کو اب کوئی حق نہیں ہے۔ اور اگر انہیں ہٹایا نہیں گیا تو پارٹی یوم جمہوریہ کے بعد احتجاج کرے گی۔

ملک میں جلدی ہی پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور تیاری کے لیے عام آدمی پارٹی کے پاس وقت کم ہے لیکن وہ اس تنازع میں الجھی ہوئی ہے۔ دلی پولیس سے اگرچہ بہت سے لوگوں کو شکایت رہتی ہے لیکن پارٹی سے ہمدردی رکھنے والی بہت سی سرکردہ شخصیات اور تقریباً پوری میڈیا کا یہ موقف ہے کہ بحثییت وزیر قانون مسٹر بھارتی نے ایک غلط نظیر قائم کی ہے جس سے قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصول کو زک پہنچے گی۔

اسی بارے میں