پتھری بل: فوج نے فرضی تصادم کا کیس بند کر دیا

جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکن احتجاج کر رہے ہیں تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے پتھریبل کیس کو بند کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا

بھارت کی فوج نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پتھری بل فرضی تصادم کے کیس کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بند کر دیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ سی بی آئی نے اس معاملے میں جو ثبوت جمع کیے تھے ان کی بنیاد پر ملزم فوجی اہلکاروں کے خلاف پانچ بے قصور افراد کو ہلاک کرنے کے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

اس معاملے میں فوج کے بعض اہلکاروں پر پانچ عام شہریوں کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کرنے کا الزام تھا۔

جموں سے فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ تفتیش سے یہ ضرور ثابت ہوتی ہے کہ پتھری بل کے معاملے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ کیس بند کرنے کے بارے میں سرینگر کے جوڈیشیل مجسٹریٹ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشل نے کیس کو بند کرنے کی مذمت کی ہے۔ دلی میں جاری کیےگئے ایک بیان میں ایمنسٹی نے کہا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حکومت ہند حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی تیز رفتار، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تفتیش کرانے کی پابند ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’حکام حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں کا ارتکاب کرنے والے فوجی اہلکاروں کے خلاف فوج کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے کا نوٹس لے۔‘

ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سی بی آئی نے اپنی تفتیش میں جن فوجیوں کو بے قصور افراد کو قتل کرنے کا قصور وار قرار دیا ہے ان کے خلاف بلا تاخیر مقدمہ چلایا جائے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فوج کے فیصلے پر ’شدید مایو‎سی‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس طرح کا کیس نہیں ہے جسے بند کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا ’اس معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی نے کی تھی۔ فوج کس طرح ان کی تفتیش کو نظر انداز کر سکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ محمکہ قانون اور ایڈوکیٹ جنرل سے صلاح و مشورے کریں گے کہ اس سلسلے میں کیا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

مارچ 2000 میں امریکہ کے صدر بل کلنٹن کے دلی کے دورے کے دوران چتی سنگھ پورہ میں 35 سکھوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے پانچ دن بعد فوج نے پتھری بل میں پانچ افراد کو ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا تھا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب دہشت گرد تھے اور یہی پانچوں افراد سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے۔

مقامی لوگوں کے احتجاج اور مظاہروں کے بعد اس معاملے کی تفتیش کی گئی تھی اور پانچوں لاشوں کا جب دوبارہ جائزہ لیا گیا تو وہ سب مقامی باشندے نکلے تھے جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

سنہ 2003 میں اس واقعے کو سی بی آئی کے حوالے کیاگیا تھا۔

سی بی آئی نے اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کرنے کے بعد سیون راشٹریہ رائفلز کے بریگیڈیئر اجے سکسینہ، لیفٹیننٹ کرنل برھیندر پرتاپ سنگھ ، میجر سوربھ شرما، میجر امیت سکینہ اور صوبیدار ادریس خان کے خلاف فرضی انکاؤنٹر میں عام شہریوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ملزموں کے خلاف سرینگر میں جوڈیشیل مجسریٹ کی عدالت میں میں مقدمہ شروع ہوا لیکن 2012 میں سپریم کورٹ کے ایک حکم کے تحت فوج نے اس معاملے کو جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت سے لے لیا اور خود کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی اور اب ایک برس بعد یہ بتایا گیا ہے کہ سی بی آئی نے جو ثبوت جمع کیے تھے ان کی بنیاد پر ملزموں کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

سی بی آئی نے ملزموں کے خلاف جو فرد جرم داخل کی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ سکھوں کی ہلاکت کے بعد اس خطے میں تعینات فوجی یونٹ پر مجرموں کو پکڑنے کے لیے زبردست دباؤ تھا جس کے نتیجے میں ملزموں نے پتھری بل کے فرضی انکاؤنٹر کا ارتکاب کیا تھا۔

اسی بارے میں