یہ کیسا انصاف ہے جنرل صاحب؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں سپیشل پاور ایکٹ کے تحت فوج کو لا محدود اختیارات حاصل ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک کے گذشتہ پچیس برس میں حقوق انسانی کی پامالیوں کے یوں تو ہزاروں واقعات رونما ہوئے لیکن بعض واقعات اپنی سنگینی، نوعیت اور شاید سیاسی وجوہات سے ہمیشہ کے لیے ذہن ودماغ پر نقش رہیں گے۔

پتھری بل کا واقعہ بھی ایسا ہی ایک سانحہ تھا۔ اس واقعے میں بھارتی فوج کے پانچ اہلکاروں پرمارچ 2000 میں پانچ مقامی دیہی باشندوں کو غیر ملکی دہشت گرد بتا کر قتل کرنے کا الزام ہے۔

جب مقامی باشندوں نے ایک ہفتے بعد اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا کر نو مظاہرین کو وہیں ہلاک کر دیا تھا۔ درجنوں افراد گولی لگنے سے ہمیشہ کے لیے معزور ہو گئے۔

زبردست عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت کو پانچوں مقتول باشندوں کی لاشیں قبر سے نکالنی پڑیں اور ان کی شناخت کے لیے ان کے ڈی این کے نمونے لیے گئے۔ لیکن شناخت کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے ڈی این اے کے نمونوں کو بھی سرکاری ڈاکٹروں نے تبدیل کر دیا۔

اس کیس کو ختم کرنے کی پولیس اور سکیورٹی فورسز کی تمام کوششوں کے باوجود اس معاملے کو 2003 میں مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا۔ تین برس بعد سی بی آئی نے مکمل ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ فوج کی راشٹریہ رائفلز کے پانچ اہلکاروں کے خلاف پانچ بے قصور افراد کے بہیمانہ قتل کا مقدمہ درج کیا۔

پہلی بار فوجیوں کے ہاتھوں حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں کے معاملے میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمے کی سماعت رکھی گئی۔ فوج نے کارروائی سے استثنیٰ کے سپیشل پاور ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر سویلین عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

لیکن مجسٹریٹ نے فوج کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ فوج اس مقدمے کو رکوانے کے لیے سیشن کورٹ اور پھر ہائی کورٹ گئی۔ وہاں بھی اسے شکست ہوئی۔ لیکن سپریم کورٹ نے سنہ 2012 میں اس کی درخواست مان لی اور یہ کیس فوج کے حوالے کر دیا گیا۔

جمعہ کے روز فوج نے ایک بیان میں یہ اطلاع دی کہ پتھری بل کے کیس کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ بقول اس کے سی بی آئی نے جن ثبوتوں کی بنیاد پر پانچ فوجی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا وہ انھیں قصور وار قرار دینے کے لیے ناکافی ہیں۔

کشمیر وادی میں فوج کے اس اعلان پر عوام اور حقوق انسانی کی تنظیموں کو کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج حقوق انسانی کی پامالیوں کے سلسلے میں اپنے اہلکاروں کا ہمیشہ دفاع کرتی رہی ہے اور اگر کچھ واقعات میں کوئی کاروائی کی بھی ہے تو کسی کو نہیں معلوم کہ کیا کاروائی کی گئی۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ فوج کے کورٹ مارشل کا عمل شفاف نہیں ہے اور ہر پہلو کو راز میں رکھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں لازمی طور پر شک و شبہات پیدا ہوتے رہے ہیں۔

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے حال میں فوج کے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ حقوق انسانی کی پامالیوں کے سلسلے میں فوج ’زیرو ٹولرینس‘ کی پالیسی پر عمل کرے گی یعنی خلاف ورزیوں کے مرتکبین کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ لیکن پتھری بل کے کیس کو جس طرح بند کیا گیا ہے اس سے فوج کے اس موقف کی نفی ہوتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی حقوق انسانی کی بین اقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پتھری بل کے ملزموں کے خلاف کسی غیر جانبدار عدالت میں مقدمہ چلائے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کیس بند کر کے سی بی آئی کی تفتیش کو دبایا نہیں جا سکتا۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ کشمیر اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں سے سپیشل پاور ایکٹ ہٹالیا جائے جس کے تحت فوج کو لا محدود اختیارات حاصل ہیں۔ گذشتہ ہفتے شمال مشرقی ریاستوں کے وزراء اعلی اور سیاسی جماعتوں کے ایک وفد نے مرکزی حکومت سے یہ اپیل کی ہے کہ وہاں سے سپیشل پاور ایکٹ ہٹایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ریاستوں میں حالات معمول پر آچکے ہیں اور اس طرح کے قانون سے شہریوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اس قانون کو ہٹانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ لیکن فوج اس ایکٹ کو ہٹانے کی مخالفت کر رہی ہے۔

پتھری بل کے کیس کو بند کر کے فوج نے اس عوامی تصور کو اور زیادہ مستحکم کیا ہے کہ پتھری بل جیسے سنگین معاملات میں بھی وہ اپنے اہلکاروں کو سزا دینے سے گریز کر رہی ہے۔ فوج نے اس کیس کو بند کر کے پانچوں ملزموں کو خواہ بچا لیا ہو لیکن اس نے کشمیراور پورے بھارت کے عوام کو کوئی مثبت سگنل نہیں دیا ہے۔

اسی بارے میں