کیجریوال: بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تفتیش نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیجریوال نے دہلی کے وزیر اعلی کے حیثیت سے کئی اہم اعلانات کیے ہیں

دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے شہر کے جامعہ نگر علاقے میں ہونے والے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کیس کی از سر نو تفتیش کروانے سے انکار کردیا ہے۔

وزیرِ اعلٰی نےسنہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ بٹلہ ہاؤس پولیس مقابلے کی بھی انکوائری کرائیں گے؟

لیکن مسٹر کیجریوال نے کہا کہ ’عدالت اس کیس میں اپنا فیصلہ سنا چکی ہے اور حکومت عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ یہ کیس بند ہوچکا ہے۔‘

بٹلہ ہاؤس انکوائنٹر سنہ 2008 میں پیش آیا تھا۔ پولیس کا الزام تھا کہ مسلمانوں کی گنجان آبادی والے بٹلہ ہاؤس نامی علاقے کے ایک فلیٹ میں ’انڈین مجاہدین‘ کے دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ اس سال 19 ستمبر کی صبح پولیس کے خصوصی سیل نے وہاں کارروائی کی جس کے دوران گولیوں کا تبادلہ ہوا اور اس مقابلے میں دو مسلمان نوجوان اور ایک پولیس انسپکٹر ہلاک ہوگئے۔

اس پولیس مقابلے کے فوراً بعد کئی سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے پولیس کے موقف کی صداقت پرشبہہ ظاہر کیا تھا اور تب سے ہی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والےبہت سے کارکنوں، مسلم تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس مقابلے میں بےگناہ اور غیر مسلح مسلمان نوجوانوں کو مارا گیا تھا۔

لیکن دہلی کی ایک عدالت اب اس کیس کے اصل ملزم کوعمر قید کی سزا سنا چکی ہے اور حکومت کا کہنا ہےکہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد مزید تفتیش کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

مسٹر کیجریوال کے مطابق سنہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی نوعیت مختلف ہے کیونکہ اب بھی سینکڑوں ایسے مقدمات ہیں جنھیں بغیر تفتیش کے ہی بند کردیا گیا تھا۔

Image caption بٹلہ ہاؤس انکوائنٹر سنہ 2008 میں پیش آیا تھا

سکھ مخالف فسادات کی تفتیش کا معاملہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد سرخیوں میں آیا ہے کہ ان فسادات میں ممکنہ طور پر کچھ کانگریسی رہنماؤں کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ سن چوراسی کے فسادات اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہوئے تھے اور اس میں ہزاروں سکھ مارے گئے تھے۔

مسٹر کیجریوال کے بیان کے بعد بٹلہ ہاؤس علاقے سے کانگریس کے رکن اسمبلی آصف محمد خان نے پریس کانفرنس میں ہی ہنگامہ شروع کر دیا اور مسٹر کیجریوال پر اپنے وعدے سے پیچھے مکرنے کا الزام لگایا۔ رکنِ اسمبلی کے مطابق انتخابات کے دوران مسٹر کیجریوال نے بٹلہ ہاؤس کی بھی عدالتی تفتیش کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

آصف محمد خان کی کانگریس پارٹی وزیر اعلیٰ مسٹر کیجریوال کی حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ لیکن ان کا دعوی ہے کہ وہ اب کیجریوال حکومت کی حمایت نہیں کریں گے۔

الیکشن قریب ہیں اور سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے۔ کانگریس کی ترجمان شوبھا اوزا نے کہا کہ آصف محمد خان کے مطالبے کے بارے میں وہ فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتیں۔

اگر آصف محمد خان حکومت کی حمایت نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں تو کانگریس کے باقی سات اراکین اسمبلی کی حمایت کے باوجود حکومت اقلیت میں آجائے گی کیونکہ حکمران جماعت کے ایک ایم ایل اے ونود بنی نے گذشتہ ہفتے پارٹی کی قیادت کے خلاف بغاوت کردی تھی۔

اسی بارے میں