کشمیر: جنسی زیادتی کے الزامات پر وزیر مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption شبیر حسین خان انڈین نیشنل کانگریس کی جموں کشمیر شاخ کے رہنما ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے وزیرِ مملکت برائے صحت شبیر احمد خان نے جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے شبیر احمد خان کے استعفے کی تصدیق کر دی ہے۔

کشمیر پولیس کے مطابق ایک خاتون ڈاکٹر نے مذکورہ وزیر پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے کیبن میں طلب کر کے ان سے جنسی زیادتی کی کوشش کی۔ یہ خاتون ڈاکٹر ایک معروف سیاسی رہنما کی اہلیہ ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے بعد وزیر کے خلاف بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا گیا ہے۔

الزام عائد کرنے والی خاتون ڈاکٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے ان کی شکایت درج کرنے سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں عدالت کی مداخلت پر مقدمہ درج ہوا۔

قابل ذکر ہے بھارتی سپریم کورٹ نے پہلے ہی ہدایات جاری کی ہیں کہ خواتین کی طرف سے جنسی زیادتیوں کی شکایات پر فوری طور ایف آئی آر درج کی جانی چاہییں۔

شبیر حسین خان انڈین نیشنل کانگریس کی جموں کشمیر شاخ کے رہنما ہیں اور راجوری سے منتخب ہوئے ہیں۔ جموں کشمیر میں اس وقت کانگریس اور مقامی نیشنل کانفرنس کی مشترکہ حکومت ہے۔

شبیر خان نے اس واقعے کو من گھڑت اور ان کی شبیہ بگاڑنے کی سازش قرار دیا ہے، تاہم کانگریس نے انہیں بےقصور قرار پانے تک مستعفی ہونے کو کہا ہے۔

اس واقعے کے خلاف ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آف کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے سنیچر کو پوری وادی میں تمام ہسپتالوں اور طبی اداروں میں ہڑتال کی کال دی ہے۔

ڈاکٹر نثارالحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھارتی حکومت نے جنسی زیادتی کے لیے جو سخت قوانین بنائے ہیں ان ہی کے تحت اس وزیر کا مواخذہ ہونا چاہیے۔ ہزاروں خواتین ڈاکٹر اور والدین پریشان ہیں کہ وہ اپنی بییٹیوں کو کہاں بھیجیں۔ یہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔‘

جموں میں بھی حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے مذکور وزیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

اسی بارے میں