’ایک بچہ پالیسی‘ کی خلاف ورزی پر لاکھوں ڈالر جرمانہ

Image caption خاندان منصوبہ بندی افسر کو جرمانے کی رقم ادا کر دی گئی ہے: حکام

چین کے ایک مشہور فلم ڈائریکٹر کو ایک سے زیادہ بچے ہونے کی وجہ سے 12 لاکھ ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑا ہے۔

جانگ یی موہ پر یہ جرمانہ اس وقت عائد کیا گیا جب انھوں نے چین کی ایک ’بچہ پالیسی‘ کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کیا۔

موہ کی عمر 63 سال ہے جبکہ ان کی بیوی چین تگ 32 سال کی ہیں۔

دونوں نے گذشتہ سال دسمبر میں ظاہر کیا تھا کہ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے.

موہ کی مشہور فلموں میں ’ہیرو‘،’ہاؤس آف پرواز ڈےگرس‘ اور ’دی پھلاورس آف وار‘ شامل ہیں۔

سال 2008 کے اولمپک کھیلوں کی افتتاحی اور اختتامی تقریب بھی انہی کی رہنمائی میں منعقد ہوئی تھی۔

چین کے سرکاری شن ہوا کا کہنا ہے کہ شوہر- بیوی کی آمدنی کے حساب سے جرمانے کی رقم طے کی گئی۔

مشرقی شہر ووشي کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان منصوبہ بندی افسر کو یہ رقم ادا کر دی گئی ہے اور یہ رقم براہ راست سرکاری خزانے میں جائے گی۔

چین میں سال 1970 میں بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ایک بچہ پالیسی کا نفاذ کیا گیا تھا۔

گذشتہ سال دسمبر میں چین میں کی قانون ساز اسمبلی نے ایک بچہ پالیسی میں نرمی کی تجاویز کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔

نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے ایک قراردار پیش کر کے دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ والدین میں کسی ایک کا اکلوتی اولاد ہونا ضروری ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق چین میں ایک بچہ پالیسی تیزي سے غیر مقبول ہو رہی تھی اور ملک کے سیاسی رہنماوں کو ڈر تھا کہ ملک میں نوجوان آبادی کی کمی کے سبب کارکنوں کی تعداد میں کمی نہ آ جائے۔ اس کے علاوہ عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کرنے والے والوں کی بھی کمی ہو سکتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں 2050 تک ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی کی عمر65 برس سے زیادہ ہوگی۔

اسی بارے میں