ایٹم بم جاپان نے امریکہ پر گرایا: گجرات نصابی کتاب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گجرات بورڈ کی آٹھویں کلاس کی کتاب میں مہاتما گاندھی کی تاریخ وفات غلط ہے

اگر بھارتی ریاست گجرات کا سکول کا بچہ مہاتما گاندھی کی تاریخ وفات غلط بتائے تو اسے ڈانٹیے نہیں بلکہ شاباشی دیں کیونکہ اس نے اپنا سبق صحیح یاد کیا ہوا ہے۔

گجرات کے سکول کی کتابوں میں یہ واحد غلطی نہیں ہے بلکہ بہت سی اور بھی ہیں۔

گجرات بورڈ کے انگریزی میڈیم میں پڑھنے والے بچوں کے لیے شائع کی گئی کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں ’جاپان نے امریکہ پر ایٹم بم گرایا تھا۔‘

ریاست کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اپنے جلوسوں میں کئی ایسی ’تاریخی باتیں‘ کہہ چکے ہیں جن کی وجہ سے ان پر تنقید کی جاتی ہے۔

غلطیاں

گجرات بورڈ کی آٹھویں کلاس کی کتاب میں مہاتما گاندھی کی تاریخ وفات غلط ہے۔ اتنا ہی نہیں دادا بھائی نوروجی، سریندرناتھ بنرجی اور گوپال کرشن گوکھلے کو کتاب میں کانگریس کا ’ایکسٹریمسٹ‘ یعنی انتہا پسند رکن بتایا گیا ہے جبکہ آزادی کی لڑائی میں حصہ لینے والے ان لیڈروں کو ہمیشہ اعتدال پسند سمجھا جاتا رہا ہے۔

اس کتاب کے مطابق ’ہوم رول‘ تحریکِ آزادی کے بعد 1961 میں شروع ہوا تھا جبکہ یہ تحریک بھارت کی آزادی سے بہت پہلے 1916 میں شروع ہوئی تھی۔

Image caption نصابی کتاب کے مطابق دوسری عالمی جنگ میں ’جاپان نے امریکہ پر ایٹم بم گرایا تھا‘

اسی کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو کا مکمل نام ’یونائیٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سوسائٹی اینڈ چلڈرن آرگنائزیشن ہے‘ جبکہ یہ چلڈرن نہیں کلچرل آرگنائزیشن ہے۔

گجرات حکومت پر سکول کی کتابوں کے ذریعے سیاست اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے الزام بھی لگے ہیں۔

تاہم، مودی حکومت کو جھٹکا تب لگا جب نیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشن پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کی دسمبر 2013 کی رپورٹ میں گجرات کو ملک میں پرائمری اور اپر پرائمری لیول تعلیم میں 28 ویں اور آٹھویں نمبر پر رکھا گیا۔

گجرات محکمہ تعلیم کی کتابوں میں بھاری لاپروائی کے بھی کئی واقعات ہیں۔

مئی 2012 میں گجرات محکمہ تعلیم نے بچوں کے پڑھنے کے لیے ’پزل میجک‘ نام کا رسالہ شروع کیا۔ بچوں کے اس رسالے میں بہت سے فحش مذاق چھپے ہوئے تھے۔ یہ میگزین 35 ہزار سکولوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس رسالے پربہت ہنگامہ ہوا جس کے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔