دہلی: تیلنگانہ کے مسئلے پر ہنگامہ آرائی، متعدد ارکان زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا

بھارتی پارلیمان میں ریاست تیلنگانہ کی تشکیل کے معاملے پر ہنگامہ آرائی میں متعدد ارکانِ اسمبلی زخمی ہوگئے ہیں۔

ہنگامہ آرائی ختم کروانے کے لیے ایوان کے محافظین کو دخل اندازی کرنا پڑی اور ایوان کی کارروائی بھی ملتوی کر دی گئی۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق یہ ہنگامہ آرائی جمعرات کی دوپہر اس وقت شروع ہوئی جب مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے لوک سبھا میں تیلنگانہ بل پیش کیا۔

اس موقع پر ریاست کے قیام کے حامی اور مخالف رہنما لوک سبھا کے سپیکر کی نشست کے سامنے پہنچ گئے۔

احتجاج کے دوران ٹی ڈی پی کے رہنما گوپال ریڈی نے میز پر لگا مائیک بھی توڑ دیا جبکہ کانگریس کے رکن ایل راج گوپال نے شیشے توڑ ڈالے۔

جھگڑا بڑھا تو راج گوپال نے مرچوں والا سپرے چھڑک دیا جس سے کئی ممبران متاثر ہوئے اور انہوں نے راج گوپال پر حملہ کر دیا۔

یہ معاملہ اس قدر بڑھا کہ لوک سبھا کے واچ اینڈ وارڈ شعبے کے اہلکاروں کو مداخلت کرنا پڑی۔

اس کے بعد پارلیمنٹ کے ڈاکٹر ایوان میں آئے اور کئی ارکان کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔

لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار نے اس پورے واقعے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ساری دنیا کی نظروں میں ہندوستانی جمہوریت ’شرم سار‘ ہوئی ہے۔

اس ہنگامہ آرائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا کہ تیلنگانہ بل ایوان میں پیش کیا گیا تھا اور اب یہ ایوان کی ملکیت ہے۔

انھوں نے ایوان میں لڑائی کے مسئلے پر کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کمل ناتھ نے کہا ہے کہ حکومت، وزارت داخلہ اور پولیس لوک سبھا کے سپیکر کی ہدایات کے مطابق کارروائی کریں گے۔

ریاست تیلنگانہ کے قیام کے مسئلے پر آندھرا پردیش میں حکمراں کانگریس کے تین ارکانِ ریاستی اسمبلی پربھاکر ریڈی، سریدھر کرشن ریڈی اور بی ستياندا راؤ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔

اس سے پہلے منگل کو کانگریس نے سيمادھرا کے چھ لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

اسی بارے میں