دہلی میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نجیب جنگ نے اسمبلی تحلیل کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے نائب گورنر نجیب جنگ نے مرکزی حکومت سے دہلی میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔

جمعہ کو 49 دن قبل منتخب ہونے والے عام آدمی پارٹی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی حکومت نے ’جن لوك پال‘ یا محتسب ادارے کے معاملے پر مستعفی ہو کر نائب گورنر سے اسمبلی تحلیل کر کے نئے سرے سے انتخاب کرانے کی اپیل کی تھی۔

کیا یہ نئی سیاست کا آغاز ہے؟

عام آدمی پارٹی: بھارت میں نئی سیاست کی علامت؟

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق نائب گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور اسمبلی کو معطل رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

دہلی کی ریاستی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بی جے پی پہلے ہی حکومت بنانے سے انکار کر چکی ہے۔

نائب گورنر نے مرکزی حکومت کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ کے ساتھ کیجریوال حکومت کے استعفے اور سفارشات بھی بھیجی ہیں۔

دہلی وفاق کے زیر انتظام ریاست ہے اس لیے وزیرِ اعلیٰ کا استعفیٰ صدر کو ہی قبول کرنا ہوگا۔ دہلی میں صدر راج کے نفاذ اور لوک سبھا انتخابات کے ساتھ وہاں اسمبلی انتخابات کرانے کا فیصلہ بھی صدر کو ہی کرنا ہے جب کہ دیگر ریاستوں میں یہ گورنر کا اختیار ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اروند کیجریوال انچاس روز تک دہلی کے وزیر اعلیٰ رہے

فی الحال کیجریوال کی حکومت قائم مقام حکومت کے طور پر کام کر رہی ہے۔

اروند کیجریوال سات ہفتے تک اقتدار میں رہے اور انھیں کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن جمعہ کو جب دہلی اسمبلی میں کیجریوال حکومت کا اہم بل جن لوك پال پیش نہیں ہو پایا تو کیجریوال کا استعفی دینا طے تھا۔

کانگریس اور بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی سے لڑنے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اس بل کو پیش کیے جانے کا عمل ’آئین کے مطابق نہیں تھا۔‘ ادھر عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ ’یہ دونوں پارٹیاں بدعنوانی میں ڈوبی ہیں اس لیے وہ جن لوك پال کی حمایت نہیں کر رہی ہیں۔‘

’عاپ‘ کی حکومت کے استعفے کے بعد جہاں کانگریس نے کیجریوال پر ذمہ داری سے فرار کا الزام لگایا، وہیں بی جے پی کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی نے ’بدعنوانی میں ڈوبی کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملا کر دہلی کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔‘

اروند کیجریوال کی جماعت کو ریاستی اسمبلی کے 70 میں سے 28 ارکان کی حمایت حاصل تھی اور قانون منظور کرانے کے لیے اسے دوسری جماعتوں کی حمایت درکار تھی جنہوں نے بل کی حمایت سے انکار کیا۔

اگر یہ قانون منظور ہو جاتا تو ایک ایسا آزاد ادارہ وجود میں آتا جو سیاستدانوں اور سرکاری افسران کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر سکتا تھا۔

اسی بارے میں