کیا دہشت گرد ویزا لے کر آتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارتی سکیورٹی ادارے سلامتی کے سوال پر ضرورت سے زیادہ حساس ہیں

گذشتہ دنوں بھارت نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے 180 ملکوں کے شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولیات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ممالک کے شہریوں کو اب ویزا کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں بھارتی سفارتخانے نہیں جانا ہوگا۔

انہیں صرف آن لائن درخواست دینی ہوگی اور پانچ دن کے اندر انہیں ایک رسید ملے گی اور وہ اس رسید کی بنیاد پر بھارت پرواز کر سکیں گے۔ بھارت پہنچنے پر ہوائی اڈے پر ہی انہیں ویزا مل جائے گا۔

سیاحت کو فرغ دینے کی غرض سے یہ سہولیات سری لنکا ، تھائی لینڈ ، متحدہ عرب امارات اور جنوب ایشیائی خطے کے متعدد ملکوں نے کافی پہلے سے شروع کر رکھی ہیں۔ اور ان کے ہاں جانے سے پہلے ویزا کے لیے کوئی درخواست بھی نہیں دینی پڑتی۔

بھارتی حکومت بھی یہ سہولیات بہت پہلے شروع کرنا چاہتی تھی۔ لیکن خفیہ ایجنسیاں اور سکیورٹی کے ادارے اس کی مخالفت کر رہے تھے۔

سکیورٹی ایجنسیاں ویزا آن ارائیول کے ضابطوں میں کچھ شرطیں جوڑنے کے بعد اس کے لیے تیار تو ہو گئیں۔ لیکن انہوں نے پاکستان ، افغانستان سری لنکا ، ایران ۔ عراق ، سوڈان ، صومالیہ اور نائجیریا کو ’حساس بتا کر اس سے الگ رکھا ہے۔‘

ان میں سری لنکا کو چھوڑ کر باقی سبھی ملکوں میں مسلم دہشت گرد تنظیمیں سر گرم ہیں یا پھر انہیں اندورنی شورش کا سامنا ہے، ایران تو اس زمرے میں بھی نہیں ہے۔

بھارتی سکیورٹی ادارے سلامتی کے سوال پر ضرورت سے زیادہ حساس ہیں۔ بھارت کو گذشتہ تین عشروں میں دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ ملک میں سینکڑوں چھوٹے بڑے دہشت گردانہ حملے ہوئے لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ کوئی دہشت گرد کبھی ویزا لے کر بھارت آیا ہو۔

پچھلے کچھ برسوں میں بھارت میں زندگی کے ہر پہلو پر سکیورٹی ایجینسیوں کی گرفت بڑھی ہے۔ ہوائی اڈوں، سڑکوں، ریلوے اسٹیشنوں، بازاروں، ہر جگہ نیم فوجی دستوں اور پولیس کے اہلکار وں کی بھیڑ نظر آتی ہے۔

سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس بیریکیڈ لگے ہوئے ہیں جہاں پولیس آئے دن گاڑیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ عدم تحفظ کا احساس اتنا زیادہ ہے کہ ہوائی اڈوں پر بورڈنگ پاس چھہ چھہ بار چک کیے جاتے ہیں۔ کئی ہوائی اڈون پر تو طیارے سے نکلتے وقت بھی بورڈنگ پاس دکھانا پڑتا ہے۔

بڑے بڑے بازاروں میں پولیس کے رکارڈ ٹیپ ہر وقت بجتے رہتے ہیں جس میں ہر وقت دہشت گردی کے حملوں سے ہوشیار کیا جاتا ہے۔ ریڈیو پر پولیس کے اشتہار چلتے ہیں جن میں ہوٹل کے ملازمین اور مالکانِ مکانات سے اپنے مہمانوں، کرائے داروں اور نام نہاد مشتبہ دیکھنے والے لوگوں پر نظر رکھنے اور ان کی باتیں سننے کے لیے کہا جاتا ہے۔

دہلی جیسے بڑے بڑے شہروں میں اہم چوراہوں اور سڑکوں پر جا بجا ریت کی بوریوں کے بنکر بنے ہوئے ہیں۔ دہلی سے ملنے والی ریاستوں کی سرحدوں پر بڑی تعداد میں ریت کی بوریوں کے بنکروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں پولیس کے اہلکار کھڑے ہوتے ہیں کہ پورا علاقہ کوئی جنگ زدہ سرحد کی طرح نظر آتا ہے۔

پچھلے کچھ برس میں بھارت میں ہر سطح پر عدم تحفط کا احساس بڑھا ہے۔ شہروں میں گھروں کی باہری دیواریں جو چار پانچ فٹ کی ہوا کرتی تھیں، اب دوگنی اونچی کر دی گئی ہیں۔ اب بڑے بڑے رہائشی کمپلیکس حصاروں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں سڑکوں پر ہر جگہ آہنی دیواریں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

رہائشی کمپلکسوں میں ہر آنے جانے والے کا ریکارڈ درج کیا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی سرجد پر کسی حساس فوجی قلعے میں داخل ہورہے ہوں۔

سنیما ہالوں، شاپنگ مالز، ریل گاڑیوں، سرکاری عمارتون، دفتروں، ہر جگہ مٹل ڈیٹیکٹرز اور تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

کھلی فضا کا احساس اب دم تو ڑ رہا۔ انسانی زندگی عدم تحفط کے خوفناک جال میں محصور ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں