دبئی میں افغانستان امن مذاکرات، طالبان ناخوش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان میں سرگرم افغان طالبان نے مذاکرات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جہادی کوششوں کے خلاف اور امریکہ کا مفاد قرار دیا ہے

افغان امن کونسل اور افعان طالبان کے سابق وزیر معتصم آغا جان کی قیادت میں امن مذاکرات متحدہ عرب امارات میں جاری ہیں تاہم افغان طالبان نے مذاکرات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جہادی کوششوں کے خلاف اور امریکہ کا مفاد قرار دیا ہے۔

دبئی سے معتصم آغا جان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان امن کونسل کے وفد میں دو اراکین حاجی دین محمد اور فضل کریم ایمک کے علاوہ کونسل کے دفتر کے ایک سینیئر اہلکار معصوم ستنکزئی شامل ہیں۔

تاہم انھوں نے معتصم آغا جان کے ساتھیوں کے نام نھیں بتائے اور کہا کہ ان کے نام اس لیے ظاہر نھیں کیے جا رہے کیونکہ ان کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی نے دبئی کے امن عمل کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے افغانستان میں امن کی کوششوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دبئی میں جاری امن کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں جہاد کے خلاف اور امریکہ کے مفاد کی کوششیں قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر ہے اور ادھر سے ہی طالبان کے نامزد کردہ مذاکرات کاروں کو اس عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ معتصم آغا ہماری نمائندگی نھیں کرتے اور نہ انھیں ایسی کوئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔‘

معتصم آغا جان نے افغان حکومت اور بین الافغانی مذاکرات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے جو کہ طالبان کی اب تک ہونے والی پالیسی سے یکسر مختلف ہے۔

معتصم آغا جان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انھیں ملا عمر کی حمایت حاصل ہے تو انھوں نے کہا کہ ’ملا عمر نے کبھی میری مخالفت نھیں کی۔‘

یہ پہلی بار ہے کہ طالبان کے ایک اہم رہنما نے قطر امن کوششوں کے متوازی امن مشن شروع کیا ہے جس کا کابل میں خیر مقدم کیا گیا اور مذاکرات کے لیے حکومت نے فوری طور پر وفد بھی بھیج دیا۔

معتصم آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے مرحلے میں وہ غیر ملکیوں سے مذاکرات نھیں کریں گے اور تمام تر توجہ بین الافغانی مذاکرت پر مرکوز رکھیں گے۔‘

لیکن دوسری جانب معتصم آغا جان کے برعکس ملا عمر کی قیادت میں افغان طالبان کرزئی حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکاری ہیں اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ پہلے وہ امریکہ کے ساتھ چند مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطالبات میں افغانستان سے غیر ملکیوں کی واپسی، امریکی قید سے ان کے ساتھیوں کی رہائی، اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے اپنے رہنماؤں کے نام نکالنا اور قطر کے دفتر کو تسلیم کروانا شامل ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین قیدیوں کے تبادلے کے لیے بلواسطہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔

یاد رہے کہ دبئی میں افغانستان کے لیے امن کوششیں کرنے والے معتصم آغا جان جو طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر کے معاون خصوصی رہے ہیں 2010 میں کراچی میں ایک حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے جو بعد میں علاج کے لیے ترکی چلے گئے تھے اور وہیں سے اپنی امن کوششوں کا آغاز کیا تھا۔

معتصم آغا نے اب دبئی کو اپنی کوششوں کا مرکز بنایا ہے۔ انھوں نے رواں ہفتے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دبئی میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں طالبان کے سابق سات وزراء، چار سفارتکار اور کئی اہم طالبان کمانڈروں نے شرکت کی۔

اسی بارے میں