دہلی کی طرف بڑھتی فوج کس نے واپسی کی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوجی دستے نئی دہلی میں فوجی مشق کے دوران دارالحکومت کی طرف بڑھ رہے تھے

بھارتی فوج کے ایک سابق ڈائریریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنوری 2012 میں جب فوج کی دو ٹکڑیاں دہلی کی طرف بڑھ رہی تھیں تو حکومت نے انھیں ان ٹکڑیوں کو واپس بھیجنے کی ہدایت دی تھی اور ممکنہ طور پر اس وقت فوج اور حکومت کے درمیان ’اعتماد کی کمی‘ تھی۔

یہ بات ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل اے کے چودھری نے کہی ہے جو اس واقعے کے وقت ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کے مطابق دونوں ٹکڑیاں معمول کی مشق کر رہی تھی لیکن سیکریٹری دفاع ششی کانت شرما نے رات 11 بجے انھیں طلب کیا اور پوچھا کہ’ بتائیے، کیا ہو رہا ہے؟‘

جنرل چودھری کے مطابق انھوں نے کہا کہ یہ معمول کی مشق تھی اور وہ پہلے ہی ان ٹکڑیوں کے کمانڈروں کو واپس جانے کی ہدایت دے چکے تھے کیونکہ دلی میں فوج کے ایک سینیئر افسر سے انھیں پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں فوج کے دہلی کی جانب مارچ کرنے سے پریشان ہیں۔

جنوری 2012 میں اس وقت فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ اور حکومت کے درمیان تلخی اپنے عروج پر تھی اور جس رات یہ واقعہ پیش آیا، اس کے اگلے ہی دن جنرل سنگھ اپنی تاریخ پیدائش سے متعلق تنازعے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے تھے۔

جنرل چودھری کا کہنا ہےکہ حکومت کی پریشانی کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس وقت ممکنہ طور پر حکومت اور فوج کے درمیان اعتماد کی کمی تھی لیکن وزیر دفاع اے کےاینٹونی نے آج دہلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا۔

مسٹر اینٹونی نے کہا کہ یہ معمول کی مشقیں تھیں اور وہ اس بارے میں پہلے بھی تین مرتبہ پارلیمان میں بیان دے چکے ہیں۔

ملک کی تاریخ میں شاید یہ پہلا اور واحد واقعہ ہے جسے محدود پیمانے پر ہی سہی، لیکن حکومت کے خلاف فوج کی بغاوت سے تعبیر کیا گیا تھا۔

جنرل چودھری کے مطابق سیکریٹری دفاع نے ان سے کہا تھا کہ فوجی ٹکڑیوں کی پیش رفت سے حکومت ’پریشان‘ ہے۔

یہ خبر سب سے پہلے انگریزی کے اخبار انڈین ایکسپریس نے شائع کی تھی لیکن جنرل سنگھ نے اسے بالکل جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت، حزب اختلاف اور فوج نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے الزام تراشی سے گریز کیا تھا لیکن یہ بحث عرصے تک جاری رہی تھی کہ اس رات آخر ہوا کیا تھا؟

جنرل سنگھ کا کہنا ہے کہ اخبار کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جنرل چودھری کا کہنا ہےکہ اگر حکومت کو کوئی تشویش تھی، تو وہ ان سے پہلے ہی معلوم کرسکتی تھی اور جہاں تک فوج کا سوال ہے، جب یہ بات معلوم تھی کہ جنرل سنگھ عدالت میں جانے والے ہیں تو اس مشق کو منسوخ کیا جاسکتا تھا۔ ان کے مطابق ’ دو لوگوں کے درمیان اعتماد کی کمی کی وجہ سے یہ کنفیوژن پیدا ہوا۔‘

جنرل وی کے سنگھ اور حکومت کے درمیان اختلافات کا تعلق ان کی تاریخ پیدائش سے تھا۔ جنرل سنگھ کا دعوی تھا کہ فوج کے ریکارڈ میں ان کی عمر ایک سال زیادہ درج ہے۔ لیکن حکومت نے ان کے موقف کو مسترد کردیا تھا اور سپریم کورٹ میں بھی انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی تھی۔

اگر جنرل کی درخواست مان لی جاتی تو وہ مزید ایک سال فوج کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہ سکتے تھے۔

اسی بارے میں