قیدیوں کے تبادلے پر امریکہ سے مذاکرات معطل: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طالبان کی جاری کردہ ویڈیو میں امریکی فوجی کو شلوار قمیض میں ملبوس دکھایا گیا تھا

افغانستان میں طالبان نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ سے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر ہونے والے مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں 2009 سے طالبان کی قید میں موجود امریکی فوجی سارجنٹ بوئے برگڈال کے بدلے گوانتاناموبے میں قید پانچ طالبان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بات چیت ہو رہی تھی۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں مذاکرات کی معطلی کی وجہ افغانستان کی موجودہ پیچیدہ سیاسی صورتحال کو قرار دیا۔

تاہم انھوں نے ’پیچیدہ سیاسی حالات‘ کی وضاحت نہیں کی۔

گذشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں ہونے والے مذاکرات خبریں تو سامنے آ رہی تھیں تاہم پہلی بار طالبان نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے معطل کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ معاملہ گذشتہ ماہ سے امریکی کانگرس میں زیرِ بحث تھا۔ جس کے بعد امریکہ نے شرط رکھی تھی کہ سارجنٹ بوئے برگڈال کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔

اس کے جواب میں طالبان نے اسی ماہ امریکی فوجی کی ویڈیو جاری کی تھی اور اس کے حالیہ ہونے کے ثبوت کے طور پر اس میں جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی وفات کا ذکر کیا گیا تھا۔

افغان طالبان نے یہ ویڈیو امریکی فوجی کے خاندان کو بھجوائی تھی جو انہوں نے بعد میں میڈیا کو بھی فراہم کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فوجی کی یہ ویڈیو دراصل امریکہ اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر براہِ راست مذاکرات میں پیش رفت کا نیتجہ ہی دکھائی دیتی ہے۔

طالبان کی قیادت نے قطر میں قائم دفتر سے کہا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے پر اقدام کرے۔

طالبان کی قید میں موجود سارجنٹ بوئے برگڈال کے بارے میں پہلے یہ خیال تھا کہ یہ حقانی گروپ کے پاس ہے کیونکہ یہ پہلے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں حقانی گروپ کے ایک رہنما ملا سنگین کے ساتھ دکھائی دیے تھے۔

ملا سنگین پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ حقانی نیٹ ورک بھی اپنے بعض ساتھیوں کو رہا کروانا چاہتے ہوں اور ممکن ہے کہ مذاکرات میں تعطل ایک وجہ یہ بھی ہو۔

گذشتہ ماہ ایک اعلی امریکی عہدے دار بھی کابل بھی گئے تھے تاکہ قیدیوں کے تبادلے پر طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے معاملہ پر افغان حکومت کو اعتماد میں لیا جاسکے۔

تاہم کرزئی حکومت کی بظاہر یہ کوشش دکھائی دیتی ہے کہ یہ معاملہ بھی ان کے توسط سے ہی طے پائے۔ واضح رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بھی امن مذاکرات جاری ہیں جس کا حالیہ دور دبئی میں ہوا ہے۔

قطر میں جون 1013 میں جب طالبان کا دفتر کھلا تو اس میں بھی سب سے پہلے قیدیوں کا معاملہ ہی زیرِ بحث آیا تھا۔

اسی بارے میں