’آلودہ دھند لیزر کے خلاف موثر ترین دفاع‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیزر ہتھیار سب سے زیادہ دھند سے متاثر ہوتے ہیں: چینی جنرل

اطلاعات کے مطابق ایک چینی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے ملک میں فضائی آلودگی کی وجہ سے چھائے رہنے والی دھند کی دبیز تہہ کو امریکہ کے لیزر ہتھیاروں کے خلاف سب سے موثر دفاع قرار دیا ہے۔

چین کے اخبار ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ نے ملک کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے کہا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی کے میجر جنرل زہانگ زاؤ زونگ کا کہنا ہے کہ ’لیزر ہتھیار سب سے زیادہ دھند سے متاثر ہوتے ہیں۔‘

میجر جنرل زہانگ نے ان ہتھیاروں کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ان حالات میں جب دھند موجود نہ ہو لیزر ہتھیار دس کلومیٹر کے فاصلے تک مار کر سکتے ہیں لیکن کہرے کی موجودگی میں ان کی یہ صلاحیت ایک کلومیٹر تک محدود رہ جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے ہتھیار بنانے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔‘

چینی افسر کی جانب سے یہ بیان ان خبروں پر سامنے آیا کہ امریکہ اپنے پہلے لیزر ہتھیار کو یو ایس ایس پونس پر نصب کرنے کی تیاریوں میں ہے۔

چین میں سوشل میڈیا پر چینی جنرل کے اس بیان پر تنقید بھی کی گئی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو غلط تناظر میں لیا گیا ہے۔

میجر جنرل زہانگ کے مطابق وہ لیزر ہتھیار کی کمزوری کی بات کر رہے تھے اور ان کا مقصد آلودہ دھند کی حمایت نہیں تھا۔

چینی ذرائع ابلاغ میں کہرے کے دفاعی فوائد پر پہلے بھی بیانات آتے رہے ہیں اور چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے کہا تھا یہ دھند میزائل حملوں اور جاسوسی کی کارروائیوں کے لیے ایک رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے بھی ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان ’آلودہ دھند کے پانچ حیران کن فوائد‘ تھا۔

اسی بارے میں