چین:دفاعی بجٹ، ترقی کے اہداف میں اضافے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین نے حالیہ چند برسوں میں اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا ہے

چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں 12 فیصد اضافے کے ساتھ ساڑھے سات فیصد کی شرح سے ترقی کا ہدف مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلانات بدھ کو بیجنگ میں قومی کانگریس یعنی پارلیمان کے سالانہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر سامنے آئے ہیں۔

اس اجلاس کے ایجنڈے پر انسدادِ بدعنوانی اور ماحولیات جیسے معاملات بھی ہیں۔

اگرچہ اس برس اجلاس میں نئے قوانین یا ترامیم کی منظوری کا امکان نہیں ہے لیکن یہ اجلاس 2014 میں چینی حکومت کی ترجیحات کا تعین کرے گا۔

دس دن تک جاری رہنے والا یہ اجلاس چین کے صدر شی جن پنگ کے اقتدار کے پہلے برس کی تکمیل کے موقع پر منعقد ہو رہا ہے اور اس میں تین ہزار قانون ساز ارکان شریک ہیں۔

گذشتہ برس کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں شی جن پنگ نے کہا تھا کہ وہ ’چینی قوم کی خاطر چین کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے جدوجہد کریں گے‘۔

چین کے وزیراعظم لی کیچیانگ بھی اس اجلاس میں چین کی معیشت کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ اپنی تقریر میں وہ کہیں گے کہ ملک کو ’پیچیدہ اور ایسی مشکلات کا سامنا ہے جن کی جڑیں گہری ہیں‘ اور یہ کہ چین کی ترقی کے لیے ’ڈھانچے میں تکلیف دہ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔‘

چینی وزیراعظم کی تقریر کے مطابق چین کی حکومت شرحِ ترقی میں اضافے کے ساتھ ساتھ افراطِ زر کی شرح ساڑھے تین فیصد تک رکھنا چاہتی ہے۔

چین نے حالیہ چند برسوں میں اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا ہے اور یہ شرح دوہرے ہندسوں میں ہی رہی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین بتائی گئی رقم سے کہیں زیادہ اپنے دفاع پر خرچ کرتا ہے۔

بجٹ میں اس سال 12 اعشاریہ دو فیصد کا اضافہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب متنازع علاقوں پر چین کے اپنے ہمسایوں جاپان اور فلپائن سے حالات کشیدہ ہیں۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں نیشنل پیپلز کانگریس کی ترجمان فو ینگ نے کہا تھا کہ چینی فوج دفاع پر یقین رکھتی ہے لیکن دیگر ممالک کو خطے کا امن تباہ نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی تاریخ اور تجربے کی بنیاد پر ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امن صرف طاقتور ہونے کی صورت میں ہی قائم رکھا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں جنوب مغربی چین میں ریلوے سٹیشن پر چاقوؤں سے مسلح حملہ آوروں کی کارروائی میں 27 ہلاکتوں کے بعد اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

چینی حکام نے اس حملے کا الزام سنکیانگ کے علیحدگی پسند گروپوں پر عائد کیا ہے۔ سنکیانگ چین کی مسلمان اویغور آبادی کا مرکز ہے۔

چین کے نئے صدر شی جن پنگ نے صدر بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ’چینی قوم کی خاطر چین کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے جدوجہد کریں گے‘۔

چینی صدر چین کی سالانہ قومی کانگریس کے اختتام پر خطاب کر رہے تھے۔

چین میں حال ہی میں ایک دہائی کے بعد ہونے والا انتقالِ اقتدار کا عمل مکمل ہوا ہے جس کے نتیجے میں شی جن پنگ نے صدر کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔

اس کے ساتھ ہی نئے چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہیں جو کہ چین میں بہت کم ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ چین میں وزیر اعظم حکومت کے روزمرہ کے معاملات چلاتے ہیں۔

لی کیچیانگ چین کی کمیونسٹ جماعت میں دوسری اہم شخصیت ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے پر سابق وزیر اعظم وین جیاباؤ کی جگہ لی ہے۔

لی کیچیانگ کو پانچ سال کے لیے وزیر اعظم مقرر کیا گیا ہے مگر امید کی جا رہی ہے کہ وہ بھی وین جیاباؤ کی طرح دس سال اس عہدے پر فائز رہیں گے۔

بی بی سی کے مارٹن پیشنس نے بیجنگ سے بتایا کہ صدر شی جن پنگ نے جذبۂ حب الوطنی سے بھرپور خطاب میں چینی قوم میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشی ترقی حکمران جماعت کی اولین ترجیح رہے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چین میں بڑھتے ہوئے عدم مساوات اور بدعنوانی کا بھی اپنے خطاب میں ذکر کیا اور کہا اس پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔

صدر شی جن پنگ نے ملک کی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اسے اپنی صلاحیت اور استعداد میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ وہ لڑائیاں جیت سکے اور ملک کی سالمیت کی حفاظت کر سکے۔

سنیچیر کو ہی چین کی کانگریس نے کئی نئے عہدوں کے لیے نئی تقرریاں بھی کیں جن میں وزیر خارجہ کے عہدے کے لیے وانگ یی اور وزیر خزانہ کے عہدے کے لیے لاؤ جیوئی بھی شامل ہیں۔

چار نائب وزارائے اعظم بھی مقرر کیے گئے جن میں جینگ گاؤ لی، لیو ین ڈونگ، وانگ یانگ اور ما کائی شامل ہیں جو تمام چینی کمیونسٹ جماعت کے تجربہ کار اور پرانے اہلکار ہیں۔

اسی بارے میں