بھارت:عام انتخابات نو مرحلوں میں، گنتی 16 مئی کو

تصویر کے کاپی رائٹ Agencies
Image caption نئی سیاسی جماعت ’عام آدمی پارٹی‘ کے وجود میں آنےسے انتخابات اور بھی دلچسپ ہو گئے ہیں

بھارتی الیکشن کمیشن نے 16ویں لوک سبھا کے انتخاب کے لیے عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارت کی 543 رکنی لوک سبھا کے لیے پارلیمانی انتخابا ت نو مرحلوں میں ہوں گے ۔ یہ انتخابات سات اپریل سے شروع ہوں گے اور 12 مئی تک نو مرحلوں میں میں پورے کیے جائیں گے ۔

سبھی مرحلوں کے ووٹوں کی گنتی 16 مئی کو ہوگی۔

بدھ کو نئی دہلی میں وگیان بھون میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپتھ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں سات اپریل کو ووٹنگ ہوگی جبکہ دوسرا مرحلہ نو اپریل کو ہو گا ۔

تیسرے مرحلے میں دس اپریل اور چوتھے میں 12 اپریل کو رائے دہندگان اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اسی طرح 14 ، 25 اور 30 اپریل کو ووٹ ڈالے جائيں گے۔ اس کے بعد سات مئی اور 12 مئی کو ووٹنگ ہو گی۔

اتر پردیش ، بہار اور مغربی بنگال جیسی بڑی ریاستوں میں انتخابات پانچ سے چھ مرحلوں میں مکمل ہوں گے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی ووٹنگ پانچ الگ الگ مرحلوں میں ہو گی۔

دہلی، پنجاب، گجرات، کرناٹک، کیرالہ اور ہماچل پردیش جیسی کئی ریاستوں میں پولنگ ایک ہی مرحلے میں پوری کی جائے گی۔

ووٹنگ کا عمل مشینوں کے ذریعے ہو گا لیکن پہلی بار بعض حلقوں میں مشین کے ساتھ کاغذ کی پرچی کا بھی تجرباتی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ کئی جماعتوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ووٹنگ کے مشینی نظام کو مکمل طور پر شفاف اور درست رکھنے کے لیے مشین کے ساتھ ایک پرچی بھی ووٹ کے طور پر رکھی جائے۔

واضح رہے کہ 16ویں لوک سبھا کے ساتھ ساتھ آندھر پردیش، اڑیسہ، اور سکّم میں ریاستی اسمبلی کے لیے بھی انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔

تاریخوں کا اعلان کرنے سے پہلے چیف الیکشن کمشنر نے کہا انتخابات صاف شفاف اور آزادانہ کرائے جائیں گے اور اس کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’صاف شفاف انتخابات جمہوریت کی خصوصیت ہوتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ پارلیمان کی 543 سیٹوں کے لیے انتخابات ہو نے والے ہیں اور حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 272 سیٹیں چاہیے ہوں گی۔

دنیا کے سب سے بڑے انتخابات میں ایک جانب کانگریس کی کمان نوجوان رہنما راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے تو دوسری جانب گجرات کے وزیر اعلی بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیداوار کے طور پر پارٹی کی انتخابی سربراہی کر رہے ہیں۔

ان انتخابات میں 81 کروڑ 40 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں اور گذشتہ انتخابات کے مقابلے ان انتخابات میں دس کروڑ ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دنیا کے سب سے بڑے انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی آمنے سامنے

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ جن لوگوں کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں شامل نہیں ہو سکا، وہ نو مارچ تک اپنا نام شامل کرا سکتے ہیں۔

انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی ملک میں انتخابی ضابطۂ اخلاق عائد ہو گيا ہے۔

انتخابات کی تفصیل بتاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ انتخابات کو احسن طریقے سے کرانے کے لیے ملک بھر میں نو لاکھ 30 ہزار پولنگ سٹیشن ہوں گے۔

ان انتخابات میں برسراقتدار جماعت کانگریس اور اہم حزب اختلاف بی جے پی کے علاوہ متعدد قومی اور علاقائی جماعتیں اپنی قسمت آزمائی کریں گي۔

حال ہی میں اتر پردیش میں برسر اقتدار سماج وادی پارٹی جنتادل یونائیٹڈ اور سی پی آئی ایم جیسی اہم پارٹیوں نے ایک تیسرے محاذ کی تشکیل کی ہے۔

اس بار کے پارلیمانی انتخابات بہت دلچسپ ہونے کی توقع ہے ۔ بیشتر جائزوں میں حکمراں کانگریس کی شکست فاش کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں ۔ جبکہ گجرات کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کی وزارت عظمیٰ کےامیدوار نریندر مودی کو بظاہر سبقت حاصل ہے۔

لیکن ایک نئی پارٹی عام آدمی پارٹی کے وجود میں آنےسے انتخابات اور بھی دلچسپ ہو گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کے اعلان سے پہلے ہی انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہو چکی ہیں۔

اسی بارے میں