صدر کرزئی کے بھائی صدارتی انتخاب سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قیوم کرزئی تاجر ہیں اور انہوں نے ماضی میں سیاست میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی

افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی نے ملک میں آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے امیدوار زلمے رسول کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قیوم کرزئی نے کہا کہ ان کی ٹیم نئے اتحاد کا اہم حصہ ہوگی۔

صدر کرزئی اب دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی امیدوار کی حمایت نہیں کریں گے۔

زلمے رسول صدر کرزئی کے اہم حامی مانے جاتے ہیں۔ وہ افغانستان کے سابق وزیرِ خارجہ ہیں اور ان کا تعلق افغانستان کے شاہی خاندان سے ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلمے رسول کا کہنا تھا کہ ’اب یہ دونوں جماعتیں مل کر لڑیں گی۔ خدا کی رضا سے اور لوگوں کی حمایت سے ہم جیت جائیں گے۔‘

قیوم کرزئی تاجر ہیں اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی میں سیاست میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی اور جب وہ ایک مدت کے لیے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تو ان پر پارلیمان میں کم کم آنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس سال افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ہونے والا ہے۔ پانچ اپریل کو ملک کے صدارتی انتخاب میں 11 امیدوار شریک ہوں گے۔

ملک میں انتخابات کے دوران سکیورٹی سنگین مسئلہ ہے کیونکہ طالبان نے انتخابی مہموں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی بھی اہم مسئلہ ہے۔

2009 میں ہونے والے گذشتہ انتخابات میں دھاندلی کے شدید الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں