ملائیشیا: لاپتہ طیارے کے تلاش کے دائرۂ کار میں توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی کا طیارہ ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئےجنوبی چین کے سمندری علاقے میں لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس پر 239 افراد سوار تھے

ملائیشیا نے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کے دائرہ کار کو ملک کے مغربی ساحلی علاقوں تک بڑھا دیا ہے جس کے لیے چین نے بھی دس سیٹیلائٹ تعینات کیے ہیں۔

ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے تلاش کے دائرے میں توسیع کرتے ہوئے اسے دوگنا کر دیا ہے جبکہ ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملائیشیا کے مغربی ساحل سے دور سمندر میں اپنی تلاش کو مرکوز کیا ہے۔

دریں اثنا چین نے بھی ملائیشیا کے طیارے کی تلاش میں تعاون دینا شروع کردیا ہے اور اس نے اس نے تلاش کے لیے اپنے 10 سٹیلائٹ تعینات کیے ہیں۔

لاپتہ مسافروں کے لواحقین میں ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان لواحقین سے جن میں بیشتر چینی باشندے شامل ہیں، کہا گیا ہے کہ بری خبر کے لیے تیار رہیں۔

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی کا طیارہ ایم ایچ 370 کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئےجنوبی چین کے سمندری علاقے میں لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس پر 239 افراد سوار تھے۔

مختلف ممالک کی امدادی ٹیمیں مسافر بردار طیارے کے باقیات کے نشانات کی تلاش میں ہیں۔

ملائیشیا کی قومی فضائی محکمے کے سربراہ اظہرالدین عبدالرحمن نے سوموار کو نمائندوں سے بتایا کہ ’جہاں سے طیارہ لاپتہ ہوا تھا وہاں سے تلاش کے دائرے میں توسیع کرتے ہوئے اسے 50 ناٹیکل میل سے 100 ناٹیکل میل کر دیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاپتہ مسافروں کے لواحقین سے جن میں بیشتر چینی ہیں، کہا گیا ہے کہ بری خبر کے لیے تیار رہیں

انھوں نے کہا کہ ’تلاش کا کام جنوبی چینی سمندر تک پھیلا دیا گیا ہے۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ’ملائیشیا کے مغربی ساحل سے دور ملکّا سٹریئٹ (آبنائے) کے بعض علاقوں تک لاپتہ طیارے کی تلاش کی جا رہی ہے۔‘

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی نے کہا ہے کہ ’تلاش اور امدادی ٹیم طیارے کے راستے سے پرے بھی تلاش کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ اب توجہ کا مرکز ملک کے مغربی خطے میں ملکّا آبنائے ہے۔‘

ملائیشیا ائیر لائنز کے طیارے کو لاپتہ ہوئے تین دن سے زیادہ وقت گزر چکا ہے تاہم کثیر الملکی ٹیم جنوبی ویتنام کے سمندر میں اب بھی اس کی تلاش کر رہی ہے۔

تلاش کا عمل ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان واقع سمندر میں جاری ہے جس میں ویتنام، ملائیشیا، چین اور دیگر ممالک کے 40 بحری جہاز اور 34 ہوائی جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

ادھر ملائیشیا کے سمندری حکام نے کہا کہ سمندر میں ملنے والی تیل کی طہہ کے کیمیائی جائزے سے پتا چلا ہے کہ وہ مسافر طیارے کا تیل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو ویتنامی بحریہ کے ہوائی جہاز نے سمندر میں ملبے کی نشاندہی کی تھی جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ ملائیشیا کے مسافر جہاز کا ملبہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں