تختہ دار کی دہشت، جلّاد کا پہلے دن استعفٰی

Image caption سری لنکا میں سنہ 1976 سے کسی بھی قیدی کو پھانسی نہیں دی گئی ہے

سری لنکا میں ایک نئے بھرتی ہونے والے جلّاد نے تختہ دار دیکھنے کے بعد صدمے کا شکار ہو کر استعفی دے دیا ہے۔

حکام نے اس شخص کو پھانسی دینے والے آلات دکھانے کے قبل ایک ہفتے کی تربیت دی تھی۔ حکام کے مطابق جیسے ہی جلاد نے وہ آلات دیکھے، وہ پریشان ہو گیا اور وہاں سے چلا گیا۔

سزائے موت کے خاتمے کے حق میں 110 ممالک

جیل محکمہ نے طے کیا ہے کہ اب وہ نئے بھرتی ہونے والے اہلکار کو تربیت سے پہلے ہی پھانسی کا تختہ دکھائیں گے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق گزشتہ سال محکمے نے دو پاکستانی مسلمانوں کی تقرری کی تھی لیکن جب وہ مہینوں تک کام پر نہیں آئے، تب گزشتہ ہفتے جیل محکمہ نے نئے جللاد کو مقرر کیا۔

یہ شخض 176 درخواست دہندگان کی فہرست میں تیسرا سب سے قابل درخواست گزار تھا۔

جیل محکمہ کے كمشنر جنرل چدررتنا پلےگاما نے روئٹرز کو بتایا، ’ہم نے اس شخص کو ایک ہفتے کی تربیت دی لیکن پھانسی کا تختہ دیکھنے کے بعد اس نے یہ کہہ کر استعفی دے دیا کہ اسے یہ کام نہیں کرنا ہے۔‘

پلےگاما نے بتایا، ’اس نے مجھے بتایا کہ پھانسی کا تختہ دیکھ کر وہ گھبرا گیا۔ اگلی بار ہم تمام نئے بھرتی ہونے والوں کو بنیادی تربیت دینے سے پہلے ہی پھانسی کا تختہ دکھائیں گے۔‘

سری لنکا میں سنہ 1976 سے کسی بھی قیدی کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق وہاں کم سے کم 405 قیدیوں کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ایسے میں ممکن تھا کہ پھانسی لگانے کی جگہ اس ملازم کا زیادہ وقت انتظامی کاموں میں ہی گزرتا۔

اسی بارے میں