کشمیر: پولیس کی فائرنگ سے لڑکا ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption علاقے میں سخت کشیدگی پیدا ہو گئی ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں پولیس اور نیم فوجی اہل کاروں کی نہتے مظاہرین پر فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے فرحت احمد انیس برس کا تھا اور وہ گولی لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

مقامی شہری اظہر محی الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد نوجوانوں نے بھارت مخالف مظاہرے کئے جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔ کئی گھنٹوں تک مشتعمل مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم جاری رہا۔

بانڈی پورہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شاہ فیصل نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقہ میں کشیدگی ہے اور عوامی ردعمل کے امکان کو دیکھتے ہوئے سخت سیکورٹی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

شاہ فیصل کا کہنا ہے: ’یہاں تو ہر جمعہ کو مظاہرے ہوتے ہیں۔ آج جب مشتعل مظاہرین سیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو نذرآتش کرنے کی کوشش کررہے تھے تو فورسز نے بچاو میں فائرنگ کی۔‘

شمالی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل غلام حسن بٹ نے اُنیس سالہ فرحت کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ قابل ذکر ہے کہ مظاہروں یا دھرنوں کے لیے کسی علیحدگی پسند گروپ نے کال نہیں دی تھی۔

دریں اثنا لداخ کے طالبعلم کی غازی آبادی کے ایک ہوسٹل میں پراسرار حالات میں موت ہونے کی وجہ سے لداخ خطے میں تناو پایا جاتا ہے۔

اس دوران نشاط سرینگر کے رہنے ڈاکٹر عرفان علی کو جنگ زدہ لیبیا میں قتل کیا گیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ڈاکڑعرفان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لیبیا کے ڈیرنا علاقے سےگزشتہ ایتوار کو لاپتہ ہوگئے تھے اور بعد میں مقامی پولیس کو ان کی لاش ملی۔

ڈاکڑعرفان کے بھائی اطہرعلی کے مطابق ڈاکڑعرفان اُن ڈیڑھ ہزار ڈاکڑوں میں شامل تھے جو گزشتہ برس وہاں کےکئی ہسپتالوں میں تعینات ہوئے تھے۔

اسی بارے میں