ممبئی میں پولیس کارروائی، ’80 مسلمان تھانے لے جائے گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الزام ہے کہ پولیس نے ان لوگوں کو بغیر کوئی وجہ بتائے کئی گھنٹے تک تھانے میں بٹھاکر رکھا

بھارت کے شہر ممبئی کے ممبرا علاقے کے رشید کمپاؤنڈ میں گذشتہ رات پولیس نے مسلم کمیونٹی کے 80 افراد کو تھانے لے گئی تھی۔

پولیس کارروائی کی شکایت اقلیتی کمیشن سے بھی کی گئی ہے۔

پولیس کی کارروائی کے بعد مقامی لوگوں میں غصہ ہے جبکہ پولیس کے مطابق کسی کو حراست میں نہیں کیا گیا تھا اور صرف پوچھ گچھ کے لیے لایا گیا تھا۔

الزام ہے کہ پولیس نے ان لوگوں کو بغیر کوئی وجہ بتائے کئی گھنٹے تک تھانے میں بٹھاکر رکھا۔

مقامی رہائشی شہزاد پوناوالا نے اقلیتی کمیشن سے شکایت کی ہے۔

پوناوالا کے مطابق ’اے سی پی امت سیاہ کی قیادت میں یہ کارروائی کی گئی تھی۔ پولیس جنہیں اٹھا کر لے گئی ان میں سکول میں پڑھ رہے لڑکوں سے لے کر 80 سال تک کے بزرگ شامل ہیں۔‘

جن لوگوں کو تھانے لے جایا گیا تھا ان میں 19 سال کے محسن اور 20 سال کے رمیض بھی شامل تھے۔

محسن نے بتایا ’میں نے ابھی 12 ویں کلاس کا امتحان دیا ہے۔ جب میں نے پولیس کو یہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ تم جیب كترے لگتے ہو۔‘

’امتیازی کارروائی‘

رميض نے بی بی سی کو بتایا ’رات کو تقریباً دو بجے کے ارد گرد پولیس والے دروازہ کھٹکھٹانے لگے۔ میرے گھر میں امی اور بہن سو رہی تھیں۔ میں اندر بیڈروم میں سو رہا تھا کہ اچانک پولیس کے آنے سے سب لوگ گھبرا گئے۔ میری ماں دل کی مریضہ ہیں۔ ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ پولیس والوں نے مجھے پکڑا اور کہا چل گاڑی میں بیٹھ۔‘

محسن کا کہنا ہے کہ پولیس نے کئی لوگوں کو چھوڑ دیا تھا مگر ان کو بٹھا رکھا۔

این سی پی کے مقامی ممبر اسمبلی جيتندر اوہاڑ کی مداخلت کے بعد محسن کو پولیس نے چھوڑا۔

اے سی پی امت سیاہ نے بی بی سی کو بتایا ’کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ انہیں صرف پوچھ گچھ کے لیے لایا گیا تھا۔ جب باہر لوگوں نے ہنگامہ کرنا شروع کیا، تو ان سے پوچھ گچھ بھی پوری نہیں ہو پائی۔‘

شہزاد پوناوالا نے اپنی شکایت میں لکھا ہے ’اس امتیازی کارروائی کے لیے دو خواتین اہلکار سمیت تقریباً 200 کی تعداد میں پولیس والے آئے تھے۔‘

اسی بارے میں