بھارتی سفارتکار دیوانی پر الزامات دوبارہ عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے قبل بدھ کو گرینڈ جیوری نے دیويانی كھوبراگڑے کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا

امریکہ کی ایک گرینڈ جیوری عدالت نے بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کو از سر نو ملزم قرار دیا گيا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں بھارتی سفارتکار کی امریکہ میں گرفتاری کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے سفارتی رشتوں میں تلخی آ گئی تھی۔

دیوانی کھوبراگڑے پر ویزا فراڈ اور اپنی ملازمہ کو امریکہ میں طے اجرت سے کم تنخواہ دینے کا الزام ہے۔

تازہ الزام دو دن قبل آنے والے الزام کے بعد آیا ہے جس میں ایک جج نے انھیں مذکورہ بنیادوں پر دیویانی کھوبراگڑے کو سفارتی استثنیٰ سے مبرا قرار دیا تھا۔

بہر حال بھارتی سفارت کار کھوبراگڑے نے ہمیشہ ہی ان الزامات کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب حکومت ہند کے ایک ترجمان نے کہا ہے بھارت ان فیصلوں سے ’مایوس‘ ہوا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کہا کہ ’امریکہ میں اس بابت لیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان قائم کی جانے والی سٹریٹیجک شراکت داری کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر کے مہینے میں اپنی ملازمہ کو امریکہ میں طے کم سے کم اجرت سے بھی کم ادا کرنے کی شکایت پر کھوبراگڑے کو ویزا فراڈ اور غلط بیانی کے شبہہ پر حراست میں لیا تھا۔

بھارتی حکومت نے کہا تھا کہ جس طرح سے انھیں حراست میں لیا گيا تھا اس پر بھارت کو ’سخت حیرت اور افسوس‘ ہوا تھا اور امریکہ کے خلاف کئی سفارتی فیصلے لیے تھے جن میں ایک امریکی سفارتکار کو دہلی سے نکالنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

بہر حال جنوری میں مجرمانہ الزامات لگائے جانے کے بعد دیویانی کھوبراگڑے بھارت واپس آگئیں تھیں جبکہ بھارت نے انھیں ان الزامات سے استثنیٰ کے اپنے فیصلے کو نہیں ہٹایا ہے۔

اس سے قبل جب ان پر لگائے گئے الزامات واپس لے لیے گئے تھے تو انھوں نے اپنی وکیل کی معرفت کہا تھا کہ ’بلآخر قانون کی بالادستی قائم رہی۔‘

ان کے والد اتّم کھوبراگڑے نے اس وقت کہا تھا ’یہ ہماری زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ ہے۔‘

اسی بارے میں