پاکستان، افغانستان کے سوا جنوبی ایشیا پولیو سے پاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عالمی ادارہ برائے صحت کے ایک آزاد کمیشن نے جنوب مشرقی ایشیا 11 ممالک کو پولیو سے پاک قرار دیا ہے

عالمی ادارہ برائے صحت کے ایک آزاد کمیشن نے پاکستان اور افغانستان کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا کو پولیو سے پاک خطہ قرار دے دیا ہے۔ اس وقت دنیا میں پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ بھارت میں پچھلے تین برسوں میں پولیو کا کوئی نیا مریض سامنے نہ آنے کے بعد اب دنیا کا 80 فیصد حصہ اس مرض سے پاک ہوگیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سوا پورے جنوب مشرقی ایشیا کے خطے سے اس مرض کا خاتمہ کردیا گیا ہے مگر پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں پولیو کا وائرس اب بھی موجود ہے اور بچوں کو اپاہج بنا رہا ہے۔

پاکستان میں بچوں کو پولیو سے بچانے کی مہم شدت پسندوں کے نشانے پر رہی ہے۔ آج بھی بلوچستان کے علاقہ لورا لائی میں پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے انسداد پولیو کی ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہل کار کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے۔

اس پیش رفت کے بعد اب دنیا کی 80 فیصد آبادی مصدقہ طور پر پولیو سے پاک علاقوں پر مشتمل ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے مشرقی ایشیا میں کام کرنے والا یہ آزاد کمیشن 11 ماہرین پر مشتمل ہے جو عوام کی صحت، وبائی امراض، طب اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔

پولیو فری قرار دیے جانے والے ان ممالک میں بھارت، سری لنکا، انڈونیشیا، نیپال، برما، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، تھائی لینڈ، ایسٹ تیمور اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کوریا شامل ہیں۔

اس کمیشن نے خطے کے گیارہ ممالک کو پولیو فری قرار دینے سے قبل دو روزہ اجلاس میں ان تمام شواہد کا جائزہ لیا۔

جنوبی مشرقی ایشیا کے لیےعالمی ادارہ برائے صحت کی ریجنل ڈائریکٹر، ڈاکٹر پونم کیھتراپال سنگھ کا کہنا ہے کہ ’یہ صحت کے لیے کام کرنے والے لاکھوں کارکنوں کی بہت اہم کامیابی ہے۔ جنھوں نے حکومتوں، غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ خطے سے پولیو کے خاتمے کے لیے کام کیا۔ یہ ایک نشانی ہے کہ ہم مل کر اپنے بچوں کے لیے کیا میراث چھوڑتے ہیں۔‘

اپنے بیان میں ڈاکٹر پونم نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے پروگراموں کے ذریعے وہاں بھی پہنچا گیا جہاں تک رسائی نھیں تھی اور اس کے ذریعے غیر محفوظ آبادیوں تک صحت کی سہولیات کو مستحکم کیا گیا۔

اسی بارے میں