کابل:’گیسٹ ہاؤس پر حملہ، پانچوں حملہ آور ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جب حملہ ہوا تو بیشتر افراد بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے

افغانستان میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے کابل میں امریکی خیراتی ادارے کے زیرِ استعمال گیسٹ ہاؤس پر حملہ کرنے والے پانچ مسلح افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ایک کمسن افغان بچی بھی اس وقت ہلاک ہوئی ہے جب ایک خودکش حملہ آور نے مہمان خانے کے دروازے پر گاڑی میں دھماکہ کیا۔

افغان حکومت کے ایک وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ مہمان خان میں موجود 31 غیرملکیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا اور ان میں خیراتی ادارے روٹس فار پیس کے چھ ملازمین بھی شامل تھے۔

کابل پولیس کے سربراہ محمد ظاہر نے ابتدا میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملہ آوروں کی تعداد چار بتائی تھی تاہم اب افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ تعداد میں پانچ تھے۔

محمد ظاہر کے مطابق ایک حملہ آور نے عمارت کے دروازے پر خودکش دھماکہ کر کے باقی حملہ آوروں کو اندر جانے میں مدد دی۔

افغانستان میں روٹس فار پیس کے اعلیٰ اہلکار محمد شریف عثمانی نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب حملہ ہوا تو بیشتر افراد بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے اور عمارت میں صرف چار افراد ہی پھنسے ہوئے تھے۔

افغانستان میں صدارتی انتخاب کا وقت قریب آتے ہی طالبان کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ کابل میں طالبان کا ایک ہفتے میں تیسرا حملہ تھا۔

طالبان نے آئندہ ہفتے ہونے والے انتخابی عمل کو درہم برہم کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں