بی جے پی مسجد اور گرجا گھر کی حفاظت کرے گی: راج ناتھ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption بی جے پی کی ملک گیر تحریک کے بعد دسمبر 1992 میں بابری مسجد مسمار کر دی گئی تھی

20 سال قبل جس پارٹی کی تحریک اور ایما پر ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد ڈھائی گئی تھی اسی بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے پارلیمانی انتخابات سے قبل مساجد کو بچانے کا عہد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی مساجد اور گرجا گھروں کی حفاظت کرنے کے لیے آگے آئے گی۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت کے دوران راج ناتھ سنگھ نے کہا: ’مسجد پر اگر کسی طبقے کا کوئی شخص حملہ کرے گا تو بی جے پی اس مسجد کی حفاظت کے لیے آئے گی۔ گرجا پر بھی اگر کوئی حملہ کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کی حفاظت کے لیے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی آئے گی۔‘

بہر حال انھوں نے ’دیگر کمیونٹی‘ کے لوگوں سے ہندو سماج کے جذبات کو سمجھنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ بھگوان رام کی پیدائش ایودھیا میں ہی ہوئي۔

انھوں نے کہا کہ تمام مذاہب اور عقائد کے لوگوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت انسانی مذہب ہے اور یہی ہندوستانی مذہب بھی ہے۔

اگر وہ وزیر اعظم بنے تو ان کی پانچ ترجیحات کیا ہوں گی؟ اس سوال کے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا: ’میں غیر حقیقی سوالوں کا جواب نہیں دیتا اور وزیر اعظم یا صدر بننا ہی میری زندگی کا مقصد نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راج ناتھ سنگھ اس بار لکھنؤ سے انتخابات لڑ رہے ہیں جس سے پارٹی کے بعض رہنما ناراض ہیں

تاہم انھوں نے اگلے ہی جملے میں کہا کہ ’جب میں سیاسی طور پر کام کر رہا ہوں تو جو بھی کردار ملے گا اور جو بھی ایشور کو منظور ہو گا اسے صحیح طریقے سے ادا کرنے یا اس ملک کے لیے اپنا تعاون دینے میں جو بھی ہو سکتا ہے، وہ کرنے کی کوشش کروں گا۔‘

بی جے پی کی پوری انتخابی مہم سے رام جنم بھومی کا مسئلہ اس بار سرے سے غائب ہے۔ پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی ایک بار بھی ایودھیا نہیں گئے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ آخر بی جے پی مندر کی تعمیر کے معاملے پر خاموش کیوں ہے؟ اقتدار میں آنے پر کیا وہ رام مندر بنائے گی؟

ان سوالات کے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا: ’کوئی بھی سیاسی پارٹی مندر یا مسجد نہیں بناتی۔ جہاں تک رام جنم بھومی کا سوال ہے ہائی کورٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا ہے کہ ایودھیا میں جہاں رام للّا براجمان ہیں وہیں رام کا جنم ہوا۔‘

بات چیت کے دوران بی جے پی صدر نے گجرات فسادات کے لیے مودی کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کو غلط بتایا: ’میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے کیا گجرات میں فسادات نہیں ہوئے؟ کیا کانگریس کے دور میں گجرات میں فسادات نہیں ہوئے؟ نریندر مودی کے 12 سال کے دور اقتدار میں صرف ایک مرتبہ فساد ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس قتل اور تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے

گجرات میں 2002 میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات میں ملوث ہونے کے جرم میں نریندر مودی کی کابینہ کے ایک رکن اور بی جے پی کی لیڈر مایا كوڈناني قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

ان کے علاوہ بجرنگ دل کے ایک لیڈر بابو بجرنگي کو بھی فسادات میں شامل ہونے اور قتل اور آتشزدگي کا مجرم پایا گیا۔ بجرنگي بھی جیل میں ہیں۔

تاہم راج ناتھ سنگھ دلیل دیتے ہیں کہ ’ایسا نہیں ہے کہ صرف گجرات کے فسادات میں ہی لوگوں نے ایسی سزا پائی ہو۔ اس کے پہلے کے فسادات میں بھی لوگوں کو سزا ہوئی ہے اور کانگریس نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں ہونے والے فسادات میں شامل لوگوں کو بچانے کی کوشش کی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس قتل اور تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔

اسی بارے میں