‎سیاسی رہنما گالی گلوچ پر اتر آئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طنز کے تیر ادھر بھی ہیں ادھر بھی

بھارت کے پارلیمانی انتخابات کی مہم اب شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، اور اس تیزی آنے کےساتھ ساتھ سیاست دانوں کی زبان بھی قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

پچھلے چند دنوں حریف رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ایک تقریر میں میں مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’زہرکی کھیتی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ انہیں ایک بار ’موت کا سوداگر کہہ چکی ہیں۔

بی بے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے پر اکثر طنز کرتے رہے ہیں۔ وہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کو ہمیشہ ’شہزادے‘ کہہ کرمخاطب کرتے ہیں۔

پچھلے دنوں انھوں نے کہا کہ اگر سونیا گجرات کی ترقی کے بارے میں سوال کر سکتی ہیں تو پھر ’شہزادے کی ماں کے بارے بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔‘

لیکن سونیا گاندھی کے بارے میں سب سے زیادہ غیر پارلمیانی بیان ایک آر ایس ایس نواز سادھو بابا رام دیو کی طرف سے آیا ۔ انھوں نے سونیا گاندھی کو ’غیر ملکی لٹیری بہو‘ کہا اور ان کا موازنہ ایک تمثیلی دیونی سے کیا جو سب کو نگل جاتی ہے۔

مودی نے کچھ دنوں پہلے کہا کہ بھارت کو تین ’اے کے سے خطرہ ہے، اے کے47 یعنی دہشت گردی، وزیر دفاع اے کے اینٹونی جنہوں نے بقول مودی فوج کے جذبوں کو پست کیا اور تیسرے اے کے یعنی اروند کیجریوال جو ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔

مودی کے خلاف سب سے سخت بیان سہارن پور سے کانگریس کے امیدوار عمران مسعود کی طرف سے آیا۔ انہوں نے کہا: ’اگر مودی نے یوپی کو گجرات بنانے (فسادات کرانے) کی کوشش کی تو وہ مودی کی بوٹی بوٹی کر دیں گے۔‘ انھیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کی ایک امیدوار ناہید حسن نے مایاوتی کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک تقریر میں کہا: ’مایاوتی تین بار مودی کی گود میں بیٹھ چکی ہیں۔ اور دونوں ہی غیر شادی شدہ ہیں۔‘

ایک حریف پارٹی سے بی جے پی میں شامل ہونے والے ایک مسلم رہنما صابر علی کو بی جے پی کے نائب صدرمختار عباس نقوی نے دہشت گردوں کا حامی قرار دیا۔ ان کے بیان کے بعد بی جے پی نے صابر علی کی پارٹی کی رکنیت واپس لے لی ۔ صبار علی نے مختار نقوی سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

عوامی بیداری، تبدیلی کی خواہش، بڑی تعداد میں نئے ووٹروں کی موجودگی اور سوشل میڈیا کے سبب اس بار کے پارلیمانی انتخابات ماضی کے مقابلے زیادہ سخت ہیں۔

انتخابی مہم بھی وقت سے بہت پہلے شروع ہو گئی ہے۔ امیدوار ان انتخابات میں کروڑوں روپے داؤ پر لگا کر ہر قیت پر یہ انتخاب جیتنا چاہتے ہیں۔ مقابلہ سخت ہے اور ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی اس دوڑ میں زبان پھسلتی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں