افغانستان : طالبان کی دھکیاں لیکن اکثر انتخاب میں شرکت کے خواہش مند

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغانستان میں صدارتی انتخاب کے موقع پر چار لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا

افغانستان میں طالبان کی جانب سے تشدد کے واقعات اور دھمکیوں کی فضا میں دو دن بعد افغان عوام صدارتی انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

انتخاب سے پہلے تشدد کے واقعات جاری ہیں اور بدھ کو دارالحکومت کابل میں وزارتِ داخلہ کے دفتر کے باہر ایک خودکش حملے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی ہے۔

تقریباً 13 برس سے صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے حامد کرزئی کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے افغان قوم آئندہ سنیچر کو پولنگ سٹیشن جائے گی۔

افغان صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے جن میں اشرف غنی احمد زئی، زلمے رسول اور عبداللہ عبداللہ کو اہم امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ دیگر امیدواروں میں محمد داؤد سلطان زئی، قطب الدین جلال، گل آغا شیرزئی اور ہدایت امین ارسلہ شامل ہیں۔

افغان آئین کے مطابق صدر حامد کرزئی تیسری مرتبہ صدر کے لیے منتخب نہیں ہو سکتے۔

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس مرتبہ صدارتی انتخاب میں افغان شہریوں میں زیادہ سیاسی بیداری نظر آ رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق طالبان کی دھمکیوں کے باوجود زیادہ تر افغان شہری صدارتی انتـحابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

افغانستان میں کام کرنے والی فری اینڈ فیئر الیکشن فاؤنڈیشن کے گذشتہ برس کے سروے کے مطابق 91 فیصد افغان اس حق میں ہیں کہ انتخابات منعقد ہوں جبکہ سروے میں شامل 74 فیصد افغان شہریوں نے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گی۔

کابل میں بیشتر افغان شہریوں کا ماننا ہے کہ امریکہ اور پاکستان اپنے مفادات کے لیے افغانستان میں مداخلت کر رہے ہیں اور اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ووٹ کے زریعے ایک مضبوط حکومت کی بنیاد رکھیں۔

افغانستان میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کی اہل ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق 38 لاکھ نئے ووٹر رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں 13 ہزار سے زیادہ خواتین ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ انتخابات میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے انتخابی عملے میں 35 فیصد خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیزی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے پہلے سال 2009 میں ہونے والے انتخابات میں لوگ جانتے تھے کہ حامد کرزئی صدر بنیں گے اس لیے کوئی جوش و خروش نہیں تھا مگر اب کی بار ایسا نہیں۔‘

انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے طالبان کی جانب سےحملوں میں اضافے کے پیش نظر کتنے لوگ ووٹ ڈالنے چاہیں گے یہ پانچ اپریل کو ہی معلوم ہو گا۔

افغان وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور چار لاکھ سکیورٹی اہلکار سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

دوسری جانب شدت پسندی کے واقعات بھی جاری ہیں اور بدھ کو ایک بار پھر شدت پسندوں نے دارالحکومت کابل کو نشانہ بنایا۔

کابل میں وزارتِ داخلہ کی عمارت کے باہر ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار ہو گئے جبکہ شدت پسندی کے ایک واقعے میں متشبہ طالبان نے صوبائی کونسل کے انتخابات کے ایک امیدوار حسین نظری سمیت نو افراد کو ہلاک کر دیا۔

افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیزی کے مطابق’بعض غیر ملکی انٹلیجنس ادارے افغانستان میں صدارتی انتخابات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں اور سکیورٹی کے کڑے انتظامات کی وجہ سے شدت پسند حملوں کو بڑی حد تک روکا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں