کشمیر نے جینا سیکھ لیا

Image caption سالہاسال کے تنازعوں کے بعد ان کشمیری بچوں کا مستقبل کیا ہے؟

کوئی بھی شخص جو پاکستان جا چکا ہو وہ کشمیر کے بارے میں اپنے حصے کی بہت سی خبریں (اور پراپگنڈہ) سن چکا ہوتا ہے۔ پندرہ برس تک پاکستان میں آتے جاتے مجھے بھی وہ سب کچھ ازبر ہوگیا تھا جو پاکستانی کشمیر کے بارے میں کہتے ہیں۔ لیکن اب جب میں خود لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب بھارت آیا ہوں تو میں نے خود اپنے نتائج اخذ کیے ہیں کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہو کیا رہا ہے۔

اپنے نئے قارئین کے لیے میں کشمیر کی تھوڑی سے تاریخ بتاتا چلوں۔ جب سنہ 1947 میں برطانوی برصغیر سےگئے تو کشمیر کے مستقبل کو کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ کشمیر کے ہندو مہاراجہ نے فیصلہ کیا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بنےگا بلکہ یہ بھارت کے ساتھ الحاق کرے گا۔ اس تنازعے کے نتیجے میں جنگیں ہوئیں اور آج کشمیر کا ایک تہائی حصہ پاکستان کے پاس ہے اور دو تہائی بھارت کے پاس ہے جس میں مسلمان اکثریتی اور سیاسی ہلچل کا مرکز یعنی وادی کشمیر بھی شامل ہے۔

وقت زخموں کو مندمل نہیں کر سکا ہے۔ کشمیر کو اپنے طابع رکھنے کے لیے بھارت نے چار لاکھ سیکیورٹی اہلکار وہاں تعینات کر رکھے ہیں۔ اگرچہ کشمیر کے بارے میں موجود تمام اعداد و شمار پر جھگڑا ہوتا رہتا ہے لیکن شاید یہ کہنا درست ہو گا کہ کشمیریوں اور بھارتی ریاست کے درمیان کشمکش میں کم و بیش ایک لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

یہ تو تھی تاریخ۔ اب کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟

Image caption کشمیر میں روز مرہ زندگی اس سے بہت مختلف ہے جو سیاحوں کو نظر آتی ہے

اگر آپ پاکستانیوں کی سنیں تو ان کے بقول بھارت کشمیریوں کی خواہشات کو دبا رہا ہے جس کے تحت کشمیری پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے ہیں یا شاید بھارت سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ اگر آپ بھارت کی سنیں تو اس کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے مکار سیکیورٹی اداروں کے بھیجے ہوئے جہادی تشدد پسندوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے اور اپنے علاقے کا دفاع کر رہا ہے۔

میں بھارتی سیاحوں سے لدے ہوئے ہوائی جہاز پر سوار کشمیر پہنچا ہوں۔ ان سیاحوں کو یہاں خوبصورت مقامات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کشمیری تاجر ان کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ تفریحی مقامات سے کہیں دور بھی قیام کرنا چاہتے ہیں تو وہاں گشت کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو دیکھ کر انہیں تسلی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی تعطیلات کشمیر میں جاری سیاسی تنازعے سے عموماً متاثر نہیں ہوتیں۔ انھیں زیادہ سے زیادہ اس چھوٹی سی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ان کے موبائل فون کشمیر میں کام کرنا بند کر دیں گے۔ بھارتی ریاست جاننا چاہتی ہے کہ کشمیر میں لوگ آخر کس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے بارے میں مقامی لوگوں اور یہاں پر آئے ہوئے سیاحوں کے خیالات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔کشمیریوں نے سیاسی تشدد اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں، دونوں کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔ اگر آپ سری نگر کے کسی چائے خانے میں بیٹھے سیاسی گفتگو کر رہے ہیں اور ساتھ والی میز پر کوئی اجنبی آ کر بیٹھ جاتا ہے تو آپ باتیں کرنا بند کر دیتے ہیں۔اگر کوئی غیر ملکی صحافی پوچھتا ہے کہ وادی میں کتنے فیصد لوگ پاکستان کے ساتھ الحاق کی حمایت کرتے ہیں تو آپ ریکارڈ سے ہٹ کر کہتے ہیں 25 فیصد، لیکن اگر آپ کو کہا جائے کہ آپ کا جواب ریکارڈ ہو رہا ہے تو آپ یہ تعداد گھٹا کر 10 فیصد کر دیتے ہیں۔

بھارتی فوج کو کشمیر میں تعینات ہوئے اتنا طویل عرصہ ہوگیا اور اس دوران اس کو اتنے زیادہ وسائل دیے گئے ہیں کہ اب کشمیری معاشرے پر اس کی گرفت بہت مضبوط پو گئی ہے۔ افواہ یہ ہے کہ اب وادی میں موجود عسکریت پسندوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ نہیں ہے، لیکن ان کو ایک ایسی فوج کا سامنا ہے جو نا صرف وادی میں ہونے والی ہر قسم کی گفتگو کی نگرانی کرتی ہے بلکہ اس نے کرائے کے مخبروں کا ایک بڑا موثر جال بچھا لیا ہے اور اسے کشمیر کے کونے کونے کی خبر ہے۔

تو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں میں نے ایسا کیا دیکھا جس سے مجھے حیرت ہوئی۔ میں کہوں گا کہ تین چیزوں نے مجھے حیران کیا۔

Image caption باقی برصغیر کی طرح کرکٹ کشمیر کا بھی مقبول ترین کھیل ہے

پہلی بات یہ کہ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وادی میں بغاوت اس قدت تیزی سے کم ہو چکی ہے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر بیس سال سے زیادہ عرصے تک ہم علیحدگی پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان بہت شدید جھڑپوں کے مناظر دیکھتے رہے ہیں۔ ہنگامے اب بھی ہوتے ہیں، لیکن اتنے کم کہ آپ سری نگر میں سورج غروب ہونے بعد بھی قدرے حفاظت سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں۔اب تو سری نگر سے زیادہ رکاوٹیں اور چیک پوسٹیں پشاور اور حتیٰ کہ اسلام آباد میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

دوسری بات یہ کہ بھارتی ریاست وادی کشمیر کے باسیوں کے دل جیتنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ بھارت نواز نیشنل کانفرنس بھی وادی میں بھارتی راج کو صرف ایک ایسی حقیقت سمجھتی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ چاہے اس کی وجہ وہ سیاسی روایت ہو جس کے تحت کشمیری رہنما دلی یا اسلام آباد کی جانب دیکھتے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب ایسے کشمیریوں کی تعداد کم ہی ہے جو آزدای کو جوش و جذبے کے ساتھ گلے نہ لگائیں۔

سری نگر میں بہت سارے طلبہ اب ڈٹ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی راج جابرانہ ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ ساری زندگی اس راج کے خلاف مزاحمت کرتے رہیں گے۔

میرا تیسرا حیران کن مشاہدہ کیا ہے؟

میں اکثر پڑھتا رہا ہوں کہ کشمیر کے سیاسی کلچر میں برداشت کا عنصر بہت زیادہ ہے۔ کشمیری لوگوں میں سیاسی اختلافات اور یہاں پر ہونے والے تشدد کو سامنے رکھیں تو اس دعوے میں جان نہیں لگتی ہے کہ یہاں کے لوگوں میں قوت برداشت بہت زیادہ ہے۔

لیکن میں دنیا میں کسی ایسی دوسری جگہ نہیں گیا جہاں لوگ مخلتف سیاسی سوچوں اور مذہبی عقیدوں کو اتنا زیادہ برداشت کرتے ہوں۔ صرف امریکہ کے اندر پائی جانے والی سیاسی تقسیم کی مثال ہی لے لیں، جہاں قدرے چھوٹے مسائل پر بھی لبرل اور قدامت پسند ایک دوسرے کے خلاف شدید غصے میں آ جاتے ہیں۔ آپ یقین کریں کہ کشمیر میں آپ ایک کٹر علیحدگی پسند کو بھی یہ کہتے سن سکتے ہیں کہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کا موجودہ سربراہ ایک اچھا آدمی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کشمیر میں اب بھی عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپیں ہوتی ہیں

بہت سے کشمیری ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں، لیکن وہ اس کا اظہار بڑے وقار کے ساتھ کرتے ہیں اور اس کا مقصد دوسرے شخص کی بھلائی ہوتا ہے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ کشمیریوں کی برداشت کی عادت ان کی زندہ رہنے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔ ہر ایک جانتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی بھارت کشمیر کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں دینے جا رہا۔ اگرچہ برطانیہ جیسا ملک، جو خود سامراجی ماضی کا حامل ہے، وہ بھی سکاٹ لینڈ کے باشندوں کو آزادی کے لیے ریفرنڈم کرانے کا حق دینے کو تیار ہو گیا، لیکن دنیا کی نئی ابھرنے والی طاقتیں اپنا لیا ہوا علاقہ واپس کرنے پر تیار نہیں ہوتیں۔اگر اس بات کا ذرا بھی امکان موجود رہتا ہے کہ کشمیری آزادی کے حق میں ووٹ دیں گے، تو انہیں حق رائے دہی کبھی نہیں دیا جائے گا۔

کشمیر کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے مغربی سفارتکار اکثر اس بات پر ناک منہ چڑھاتے اور فضول لطیفے سناتے ہیں کہ یہ مسئلہ کتنا ٹیڑھا ہے۔ مجھے اس رویے سے ہمیشہ سخت کوفت ہوتی ہے۔

کشمیر دنیا کا وہ سب سے زیادہ اہم تنازعہ ہے جس کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکلا ہے اور یہ مسئلہ کروڑوں زندگیاں تباہ کر چکا ہے۔

اور آخر میں وہ بات جسے دیکھ کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ جہاں تک ہماری نظر جاتی ہے، کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

اسی بارے میں